(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی جیل میں قید ایک فلسطینی شہری متعدد خطرناک امراض کا شکار ہے مگرصہیونی جیلروں اور انتظامیہ نےیہ کہہ کر اس کا علاج کرانے سے انکار کردیا ہے کہ اس کے علاج پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 29 سالہ فادی سامی النمنم کا تعلق غزہ کی پٹی کے ساحلی علاقے میں قائم پناہ گزین کیمپ سے ہے۔۔اسیر کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے موکل سے اسرائیل کی ’’نفحہ‘‘ جیل میں ملاقات کی ہے۔ اسیر النمنم کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین سال سے وہ ریڑھ کی ہڈی، کمر درد اور اعصابی تناؤ کا شکار ہے، اسرائیلی جیلر اسے تسلی دینے کے لیے متعدد مرتبہ جیل کی اسپتال میں لے گئے مگر ہربار یہ کہہ کر اسے واپس کردیا جاتا کہ اسپتال میں ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔
فلسطینی اسیر کا کہنا ہے کہ حال ہی میں جیل کی انتظامیہ نے اسے صاف جواب دے دیا اور کہا ہے کہ جیل انتطامیہ اس کا علاج نہیں کراسکتی کیونکہ علاج پربھاری اخراجات آتے ہیں۔ اس کے بعد اسے جیل کی اسپتال میں لے جانا بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔
