مرکز برائے امور اسیران و انسانی حقوق ’’احرار‘‘ نے انسانی حقوق کی عالمی اور ملکی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چالیس ماہ سے اسرائیل کی انتظامی حراست میں رہنے والے فلسطین کے معروف اسیر رہنما رافت ناصیف کی رہائی کے فوری مداخلت کریں۔
مرکز احرار کے ڈائریکٹر فواد خفش کا کہنا ہے کہ ناصیف کو 19 مارچ 2009ء کو گرفتار کیا گیا تھا اور انتظامی حراست میں رکھے گئے قیدیوں کے رہنما بن چکے ہیں، بغیر کسی وجہ کے محض سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیکر ان کی انتظامی حراست میں آٹھ مرتبہ توسیع کی جا چکی ہے۔
فواد خفش نے بتایا کہ ناصیف کو سنہ 1990 تا 93 متعدد مرتبہ حراست میں لیا گیا، 1994ء میں پھر ڈیڑھ سال کے لیے گرفتار کرلیا گیا اور جنوری 1996ء میں رہا کیا گیا تھا۔ فلسطینیوں کے دوسرے انتفاضہ کے دوران ناصیف کا نام سرگرم سیاسی رہنما کے طور پر ابھرا۔ ان کا نام اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر تھا اور 2004ء کے وسط میں انہیں گرفتار کرلیا، ساڑھے چار سال حراست کے بعد انہیں 2008ء کے آخر میں رہا کیا گیا تاہم 19 مارچ 2009ء کو انہیں پھر گرفتار کرلیا گیا۔
فواد خفش نے ناصیف پر ڈھائی جانے والے مظالم پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ انہیں آخری مرتبہ شادی کے چالیس روز بعد ہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔ جیل انتظامیہ انہیں ایک جیل میں چالیس ماہ سے زائد نہیں رکھ سکتی لہذا اب انہیں کسی دوسرے جیل میں منتقل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ یاد رہے کہ ناصیف نے گزشتہ دنوں فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتال میں حصہ لیتے ہوئے 22 روز تک بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔
