فلسطین کے اسرائیل کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صائب عریقات نے کہا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کی آڑمیں اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی توسیع پسندی کا سلسلہ جاری رکھ کرامن مساعی کوسبوتاژ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں اسرائیلی یہودی کالونیوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔
فلسطینی اخبار”القدس”کے مطابق صائب عریقات نے رام اللہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے مذاکرات کے چھ ماہ کے عرصے میں مقبوضہ عرب شہروں میں کم سے کم 10 مکانات تعمیر کرڈالے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اب تک امریکی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات کے ادوارمیں تنازع کے حل کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ جب تک اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ختم کرتے ہوئے فلسطین میں یہودی آباد کاری کا سلسلہ بند نہیں کرتا امن عمل میں کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔
صائب عریقات کاکہنا تھا کہ وہ امریکا کے وضع کردہ ٹائم فریم کی پابندی کررہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے امن معاہدے کے لیے نوماہ کا عرصہ مقرر کیا گیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اس میں ایک منٹ کی توسیع بھی نہیں کرے گی۔
فلسطینی مذاکرات کاراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امریکیوں کی جانب سے اب تک جو تجاویز سامنے آئی ہیں وہ حتمی یا تحریری نہیں بلکہ زبانی ہیں۔ امریکی صرف آزمائشی غبارے چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں پیپر پرکوئی چیز نہیں بتائی۔ ہم نے انہیں متعدد مرتبہ کہا ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی ٹھوس حل ہے تو ہمیں بتایا جائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
