فلسطینی ذرائع نے سلام فیاض کی مستعفی حکومت کے وزیر اوقاف محمود ھباش کے ایک نئے اسکینڈل کا انکشاف کیا ہے جس کے مطابق ھباش فلسطینی علماء کرام اور اسرائیلی یہودی مذہبی پیشواؤں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ترکی میں ایک کانفرنس کے انعقاد کی کوششیں شروع کردی ہیں۔
”مرکز اطلاعات فلسطین” کےخاص ذرائع نے بتایا کہ محمود ھباش ترکی میں اسلامی علماء اور یہودی ربیوں کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کانفرنس کے انعقاد کے مشن پر نکل گئے ہیں۔ پروگرام کے مطابق کانفرنس کا دوسرا سیشن سن 1948ء کے مقبوضہ فلسطین (نام نہاد اسرائیل) میں اسرائیلی حکام کے زیر انتظام ہوگا۔ یہودی ربیوں سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کی یہ کوششیں ایسے وقت میں کی جارہی ہیں جب یہی یہودی مذہبی پیشوا اپنی قوم کو بڑھ چڑھ کر مسجد اقصی پر دھاوے بولنے اور مسلمانوں کے اس قبلہ اول میں داخل ہوکر یہودی عبادات ادا کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ فلسطینی علماء اور یونیورسٹی کے اساتذہ نے ترکی میں ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
واضح رہے کہ محمود ھباش کے حوالے سے یہ پہلا اسکینڈل منظر عام پر نہیں آیا۔ بلکہ ان کے نام کے ساتھ پہلے بھی متعدد اسکینڈلز جڑے ہوئے ہیں۔ رام اللہ میں ان کے بیٹے کی سرکردگی میں ایک ڈکیت گروہ کی کارروائی، رام اللہ میں ان کے گارڈز کی جانب سے عام شہریوں پر فائرنگ کھول دینا اور الزام لگانا کا یہ ھباش کو قتل کرنا چاہتے تھے، القدس کے اسیران کے لیے مخصوص حج و عمرے کے کوٹے کو دوسرے افراد میں بیچنے کا معاملہ، مسجد اقصی کے دورے کرنے کے بجائے ان کے 48ء کے مقبوضہ فلسطین کے بے تحاشہ دورے اور انکی جانب سے عالم اسلام کے معروف عالم شیخ یوسف قرضاوی پر بے جا تنقید کے اسکینڈلز اب بھی زبان زد عام ہیں ۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
