اسرائیلی اخبار”یروشلیم پوسٹ” کے مطابق سابق اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سنہ 2008ء میں اختتام پذیر ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی تھی۔ ان مذاکرات میں فریقین بیت المقدس کی تقسیم پر متفق ہو گئے تھے۔
فلسطینی صدر محمود عباس بھی بیت المقدس کے ایک حصے کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے اور دوسرے کو فلسطینی ریاست کا حصہ بنانے کے فارمولے پر راضی تھے تاہم ان دونوں حصوں کا میئر صرف ایک ہونا بھی قبول کر لیا گیا تھا۔ میئر کے لیے شہرکی آبادی کا تناسب دیکھا جانا تھا کہ اگر شہرمیں یہودیوں کی آبادی زیادہ ہے تو یہ منصب کسی اسرائیلی شخصیت کو سونپے جانے پر اتفاق ہو گیا تھا۔
ایہود اولمرٹ کا مزید کہنا ہے کہ فلسطینی صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں وہ پہلے اسرائیلی شخصیت کو مشترکہ میئر ماننے پر راضی نہ تھے تاہم بعد میں ہم نے اپنے فارمولے میں ترامیم کیں اور یہ فیصلہ کیا تھا کہ میئر صرف نمائشی ہوگا جس کے پاس انتظامی اختیارات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔
سابق صہیونی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قدیم بیت المقدس کو امریکا، اسرائیل، فلسطین، اردن اور سعودی عرب کی نگرانی میں دینے پربھی اتفاق ہو گیا تھا۔ اس ضمن میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے یہ تجویز دی تھی کہ قدیم بیت المقدس کی نگرانی پر مامور پانچ میں سے تین ممالک مسلمان ہونے چاہئیں۔
فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے جب ان سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے مذاکرات میں تجویز دی تھی کہ فلسطینی ریاست کےقیام کے بعد پانچ سال تک سالانہ ایک ہزار فلسطینیوں کو واپس لانے کی اجازت دی جائے لیکن فلسطینی صدر نے یہ تجویز مسترد کر دی تھی۔
