فلسطین کی منظم مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے مرکزی رہنما ڈاکٹر اسماعیل رضوان نے کہا ہے کہ صدر محمود عباس کوملک میں عبوری عرصے کے لیے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سونپ کر قوم کو بحران سےنکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حماس کے تمام فیصلے اجتماعی ہوتے ہیں اور دوحہ اعلامیے کے بارے میں حماس کی قیادت میں اختلافات کی خبریں قطعی بے بنیاد ہیں۔
فلسطینی مقامی اخبار”فلسطین” کو انٹرویو میں اسماعیل رضوان کا کہنا تھا کہ 02 فروری کو دوحہ میں امیر قطر کی میزبانی میں حماس کےسیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل اور صدر محمود عباس کے درمیان مفاہمت کے سلسلے میں جو فیصلے ہوئے ہیں وہ مفاہمت کی کامیابی کی کلید ثابت ہوسکتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس فلسطینی قوم کو جلد ازجلد مفاہمت کی خوشخبری سنانا چاہتی ہے۔ موجودہ حالات میں حماس نے مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے حد درجہ فراخ دلیاور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالات کا تقاضا یہی تھا کہ ہم ایک دوسرے کے قریب ہونےکے لیے کھلے دل اور حسن نیت کا مظاہرہ کریں۔
ایک سوال کے جواب میں حماس رہنما نے کہا انہیں توقع ہے کہ دوحہ میں خالد مشعل اور محمود عباس کے درمیان ہونے والی بات چیت اور طے پانے والے نکات پر فتح مکمل پابندی کرے گی۔
اس سوال پر کہ قطر میں خالد مشعل کی جانب سے صدر محمود عباس کو قومی حکومت کا سربراہ منتخب کیے جانے اور اس پر حماس کی قیادت میں پائے جانے والے اختلافات کے بارے میں اسماعیل رضوان کا کہنا تھا کہ حماس کی اندرون ملک اور بیرون ملک موجود قیادت کے تمام فیصلے متفقہ ہوتے ہیں جن میں کوئی اختلافات نہیں ہوتا۔ دوحہ میں خالد مشعل نے قومی مفاہمت کے سلسلے میں حماس کے سیاسی شعبے کے صدر نے جو فیصلہ کیا ہے وہ اندرون ملک حماس کی قیادت کو بھی منظور ہے۔ ہم اب دوحہ اعلامیے پرعمل درآمد کے منتظر ہیں۔

