لندن میں قائم عرب تنظیم برائے انسانی حقوق نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو 62 سالہ شہری سعدی السخل کی موت کا پورا پورا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ سعدی السخل کو بیٹے سمیت دفتر سے اغوا کرکے نابلس میں انٹیلی جنس کے مرکزی دفاتر لایا گیا تھا جہاں دوران حراست تفتیش کے دوران تشدد سے ان کی وفات ہوگئی۔
اتوار کے روز ایک بیان میں تنظیم نے محمود عباس سے فوری طور پر اس واقعہ کے بارے میں تفتیش کا آغاز کرنے اور اس واقعہ کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی ادارے مغربی کنارے کے شہریوں کے خلاف مسلسل کاروائیوں میں مصروف ہیں اور اس پر امداد دینے والے یورپین ممالک ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے کوئی حرکت نہیں کررہے ہیں جو کہ فلسطینی اتھارٹی اور اس کی سیکیورٹی ایجنسیوں کو فنڈ دیتے ہیں۔
یورو مڈ آبزرور برائے انسانی حقوق نے اس واقعہ سے متعلق فلسطینی اتھارٹی سے فوری اور سنجیدہ تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آبزرور کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث تمام سیکیورٹی اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور مغربی کنارے میں جاری سیاسی حراستی مہمات کا سلسلہ بند کرنے کی بہت اہمیت ہے۔
اس نے بتایا کہ ایسی سیاسی حراستیں بین الاقوامی انسانیت کے قانون اور فلسطین کے مقامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
اس نے مزید بتایا کہ اس شہری کا یہ واقعہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہریوں کی ماورائے عدالت اور غیر قانونی حراستوں کے واقعات میں سے ایک مثال ہے۔
اس نے بتایا کہ اس نے اس سال کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں سینکڑوں غیر قانونی حراستوں اور طلبی نوٹسز کا ریکارڈ رکھا ہے۔
اسی سے متعلقہ واقعہ میں ہفتے کی شام کو نابلس شہر کے شہریوں میں 62 سالہ ہم وطن سعدی السخل کی ایک فلسطینی اتھارٹی کی جیل میں موت کے بعد غم و غصہ کی ایک لہر پائی جاتی ہے۔
نابلس کے درجنوں نوجوان سڑکوں پر آگئے خاص طور پر راس ال عین کے علاقے میں جہاں سخل کا خاندان رہائش پذیر ہے اور انہوں نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کردیں جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔
سعدی السخل کا جسد خاکی الاعرابی ہسپتال کے ڈاکٹرز کی جانب سے موت کی تصدیق کے بعد تدفین کے لئے ان کے خاندان کے حوالے کیا گیا مگر فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورسز نے ان کے گھر پر دھاوا بول دیا اور ان کی میت کو موت کی وجہ جانے کے لئے پوسٹ مارٹم کی خاطر فلسطینی اتھارٹی کے ہسپتال رفیدیا منتقل کردیا۔
سخل کی میت کو فلسطینی اتھارٹی کی خفیہ ایجنسی کی جانب سے ایک اور ہسپتال لے جانے کے عمل کو ان کی موت کی رپورٹ کو بدلنے کے ایک طریقہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے تاکہ ان کی موت کے قصور وار افراد کے خلاف کسی قانونی کاروائی سے بچا جاسکے جنہوں نے سعدی کے ساتھ برا سلوک روا رکھا اور ان کی موت واقع ہوگئی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
