مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی پارلیمنٹ کے ایک رکن اور سرکردہ سیاسی رہ نما نے محمود عباس کو قوم سے خیانت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کا کڑا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے چیئرمین عاطف عدوان نے مرکز اطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی سابقہ حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کے معاملے میں بہانہ بازی کا مظاہرہ کرنا قوم کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ ہے۔ صدر محمود عباس کی اس پالیسی پر انہیں عدالت کا سامنا کرنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں عاطف عدوان کا کہنا تھا کہ فلسطینی صدر محمود عباس کا دور فلسطینی قوم کے لیے زیادہ پریشان کن رہا ہے اور انہوں نے اپنے دور حکومت میں فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق کی کھلے عام نفی کی ہے۔ وہ مسلسل پسپائی کا راستہ اختیار کیے ہوئےہیں۔ فلسطینی قوم کو ان کا احتساب کرنا چاہیے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کو کسی قومی عدالت میں پیش کیا جائے تو ان کے خلاف قوم سے بددیانتی کےارتکاب کا مقدمہ چل سکتا ہے۔ انہوں نے قومی حکومت کے سربراہ رامی الحمد اللہ کو آزادانہ کام کاج کی اجازت دینے کےبجائے اپنے ہاتھ کا کھلونا بنا رکھا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے زیرصدارت بدھ کے روز ہونے والے ایک اجلاس میں کہا گیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کی سابقہ حکومت میں شامل ملازمین کو تنخواہیں جاری کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اگر وہ تنخواہیں لینا چاہتے ہیں تو انہیں حماس کی حکومت کے بجائے رام اللہ میں سلام فیاض کی حکومت میں شامل ہونے کا اعلان کرنا چاہیے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
