اسرائیلی حکومت کے متعدد اعلی عہدیداروں نے صہیونی خاتون وزیر انصاف اور مذاکراتی ٹیم کی سربراہ زیپی لیونی کو فلسطینی انتطامیہ کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات کے بعد کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
زیپی لیونی نے جمعرات کے روز برطانوی دارلحکومت لندن میں محمود عباس سے ملاقات کی تھی۔
صہیونی عہدیداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ زیپی لیونی فی الفور اپنے عہدے سے استعفی دیں کیونکہ ان کی حکومت میں کوئی جگہ نہیں کیونکہ بقول اسرائیلی عہدیداروں کے خاتون وزیر ذاتی مفاد کے لیے معاملات خراب کر رہی ہیں۔
ادھر اسرائیلی پارلیمنٹ کی قانون ساز وزارتی کمیٹی نے زیپی لیونی اور محمود عباس کے درمیان لندن میں ہونے والی ملاقات پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی سینئر سیاستدان ایسی حرکتیں خود کو حکومت میں شامل رکھنے کے لیے کر رہی ہیں۔
یاد رہے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر خارجہ ایویڈور لائبرمین اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے بیان دے چکے ہیں کہ زیپی لیونی نے محمود عباس سے ملاقات سرکاری نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں کی۔
اسرائیلی پبلک ریڈیو نے وزیر اعظم کے مقرب ذرائع کا یہ بیان نشر کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات میں اسرائیلی وفد کی سربراہ پر بنجمن نیتن یاہو نے محمود عباس سے ملاقات سے پہلے ہی ان پر واضح کیا تھا کہ اگر انہوں نے ابو مازن سے ملاقات تو وہ ان کی ذاتی حیثیت میں ہو گی، وہ اس ملاقات میں اسرائیل کی نمائندگی نہیں کریں گی۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ‘نیتن یاہو’ نے لیونی پر واضح کیا ہے اسرائیلی کابینہ اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی حامی فلسطینی حکومت یا انتظامیہ سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
