رپورٹ کے مطابق محکمہ امور اسیران کی وکیل ھبہ مصالحہ نے بتایا کہ صحافی محمد القیق کی بھوک ہڑتال انتہائی خطرناک مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ 82 روز کی مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث قیدی کی زندگی کو شدید نوعیت کے خطرات لاحق ہیں۔
المصالحہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ اسپتال کی انتظامیہ نے القیق کی تشویشناک صورت حال کے بعد ہنگامی حالت نافذ کردی ہے اور وہ اعلانیہ اس کی خطرناک کیفیت کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں۔
فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیر محمد اسامہ القیق کے ایک دوسرے مندوب یامن زیدان نے کہا ہے کہ محمد القیق گذشتہ 48 گھنٹے سے نیند سے محروم ہے اور اس کی پورے جسم میں شدید تکلیف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطینی قیدی ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا ہے اور اس کے جسم میں خون کی شدید قلت ہے۔ طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ محمد القیق کی زندگی کا چراغ کسی بھی وقت گل ہوسکتا ہے۔
فلسطینی وکیل زیدان نے کہا کہ بھوک ہڑتالی قیدی کی زندگی اور موت میں اب کوئی زیادہ فاصلہ نہیں رہا ہے۔ اگرصہیونی ریاست کی ہٹ دھرمی کی پالیسی ایسے ہی جاری رہتی ہے القیق کسی بھی وقت جام شہادت نوش کرسکتے ہیں۔
درایں اثناء فلسطینی محکمہ اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع نے کہا ہے کہ اگربھوک ہڑتالی فلسطینی قیدی کی زندگی کو کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار اسرائیل ہوگا۔ انہو نے کہا کہ القیق کی بھوک ہڑتال ختم نہ کرنے کی ہٹ دھرمی کا اصل ذمہ داراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو ہے جس کے حکم پر بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کے المجد ٹی وی کے فلسطینی نامہ گار 33 سالہ محمد القیق کو اسرائیلی فوج نے پچھلے سال 21 نومبر کو حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد القیق کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد اسے چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں ڈالتے ہوئے پابند سلاسل کردیا تھا۔ القیق نے اپنی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کردی تھی جو 82 روز سے جاری ہے۔
