مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ’’متروکہ جائیداد قانون‘‘ کے خلاف سرگرم فلسطینی اتحاد تنظیمات برائے انسانی حقوق نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی املاک ہتھیانے کے کسی ظالمانہ قانون کو قبول نہیں کریں گے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کی ایک عدالت نے حکومت کو فلسطینیوں کی متروکہ جائیدادوں کو بہ حق سرکار ضبط کرنے کا اختیار دیا تھا جس کے بعد صہیونی حکومت نے فلسطینیوں کی جبری قبضے میں لی گئی جائیدادوں کو بہ حق سرکار ضبط کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔
انسانی حقوق الائنس کی جانب سے جمعرات کو بیت المقدس میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کی املاک پرغاصبانہ اور ظالمانہ قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متروکہ جائیداد قانون کو مسترد کردیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی املاک پرقبضے کے صہیونی قانون کا مقصد فلسطینیوں کی املاک پرہاتھ صاف کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ قانون فلسطینیوں کی املاک اور جائیدادوں پر ڈاکہ ڈالنے اور ان کے سرقے کا ایک نیا ہتھکنڈہ ہے اور اسے کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا۔
انسانی حقوق کے گروپوں نے فلسطینی اتھارٹی سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی املاک ہتھیانے کے سیاہ قانون کو بین الاقوامی فوج داری عدالت میں لے جائے تاکہ فلسطینیوں کی املاک پر ڈاکہ ڈالنے کی صہیونی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے سنہ 1948 ء میں اپنے قیام کے وقت ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کیا تھا۔ بندوق کے ذریعے چھینی گئی فلسطینیوں کی جائیدادوں اور اراضی کو صہیونی ریاست کی ملکیت قرار دینے کے لیے پارلیمنٹ سے ایک قانون منظور کرایا گیا۔ کچھ عرصہ قبل فلسطینیوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے قانون کو چیلنج کردیا گیا تھا تاہم حال ہی میں صہیونی سپریم کورٹ نے حکومت کو اس قانون کے مطابق فلسطینیوں کی جائیدادوں کو اپنے استعمال میں لانے کی اجازت فراہم کردی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
