• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

’’متروکہ املاک اسرائیلی قانون‘‘، ہزاروں ایکڑفلسطینی اراضی خطرے کی زد میں!

منگل 28-04-2015
in فلسطین
0
plf at-danger
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کی جانب سے منظور کیے گئے فلسطینی املاک پرقبضے کے ایک متنازعہ قانون کے سنگین نتائج کے حوالے سے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ قانون پرعمل درآمد کے نتیجے میں فلسطینیوں کی ہزاروں ایکڑ ارضی پراسرائیل ناجائز قبضہ کرسکتا ہے۔

 مرمرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین میں یہودی آباد کاری کی تحقیق میں سرگرم ایک ادارے ’’اریج‘‘ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی عدالت کی جانب سے صہیونی حکومت کو متروکہ املاک سے متعلق ایک متنازعہ قانون پرعمل درآمد کی اجازت دینا فلسطینیوں کی املاک بالخصوص وسیع رقبے پرپھیلی اراضی اورمکانات پرقبضے کا جواز فراہم کرنا ہے۔ اگرصہیونی حکومت اس قانون پرعمل درآمد کرتی ہے تو اس کی زد میں فلسطینیوں کی ہزاروں ایکڑ اراضی آسکتی ہے اور فلسطینی شہری وسیع رقبے سے محروم ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکومت نے عدالت سے اجازت ملنے کے بعد فلسطینی شہریوں کی متروکہ اراضی کا نقشہ تیار کرنا شروع کردیا ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے آیا کہاں کہاں اور کتنی اراضی یہودی کالونیوں کی توسیع کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے اس وقت اسرائیلی وزارت مالیات بھی فلسطینیوں کی متروکہ جائیدادوں کا حساب کتاب لگا رہی ہے تاکہ ان کی مالیت کا اندازہ لگانے کے بعد اسرائیل کی ڈویپلمنٹ اتھارٹی کو یہ اختیار دیا جاسکے کہ وہ لا پتا فلسطینیوں کی اراضی کو تعمیراتی فرموں کو فروخت کرسکے۔ اس سلسلے میں ’’عمیدار‘‘ اور ’’ھمینوتا‘‘ نامی دو تعمیراتی فرمیں فلسطینیوں کی اراضی کا وافر حصہ خرید کرنے کی خواہاں ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں دیوار فاصل کےقیام کے بعد جبل ابو غنیم یہودی کالونی قائم کی گئی جس کے لیے فلسطینیوں کی متروکہ اراضی کو استعمال کیا گیا۔ اس کےعلاوہ بیت لحم کی 7000 ایکڑ اراضی بیت المقدس میں یہودی بلدیہ کی توسیع کے لیے استعمال کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے سنہ 1948 ء کے بعد سے اب تک فلسطین سے جبرا نکالے گئے فلسطینی شہریوں کی املاک پرقبضے کی غرض سے پارلیمنٹ سے ایک متنازعہ قانون منظور کرایا تھا جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ حال ہی میں اسرائیلی عدالت نے متروکہ املاک قانون پرفیصلہ دیتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو فلسطینیوں کی املاک پر تصرف کی اجازت دے دی تھی۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.