مرمرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین میں یہودی آباد کاری کی تحقیق میں سرگرم ایک ادارے ’’اریج‘‘ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی عدالت کی جانب سے صہیونی حکومت کو متروکہ املاک سے متعلق ایک متنازعہ قانون پرعمل درآمد کی اجازت دینا فلسطینیوں کی املاک بالخصوص وسیع رقبے پرپھیلی اراضی اورمکانات پرقبضے کا جواز فراہم کرنا ہے۔ اگرصہیونی حکومت اس قانون پرعمل درآمد کرتی ہے تو اس کی زد میں فلسطینیوں کی ہزاروں ایکڑ اراضی آسکتی ہے اور فلسطینی شہری وسیع رقبے سے محروم ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکومت نے عدالت سے اجازت ملنے کے بعد فلسطینی شہریوں کی متروکہ اراضی کا نقشہ تیار کرنا شروع کردیا ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے آیا کہاں کہاں اور کتنی اراضی یہودی کالونیوں کی توسیع کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے اس وقت اسرائیلی وزارت مالیات بھی فلسطینیوں کی متروکہ جائیدادوں کا حساب کتاب لگا رہی ہے تاکہ ان کی مالیت کا اندازہ لگانے کے بعد اسرائیل کی ڈویپلمنٹ اتھارٹی کو یہ اختیار دیا جاسکے کہ وہ لا پتا فلسطینیوں کی اراضی کو تعمیراتی فرموں کو فروخت کرسکے۔ اس سلسلے میں ’’عمیدار‘‘ اور ’’ھمینوتا‘‘ نامی دو تعمیراتی فرمیں فلسطینیوں کی اراضی کا وافر حصہ خرید کرنے کی خواہاں ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں دیوار فاصل کےقیام کے بعد جبل ابو غنیم یہودی کالونی قائم کی گئی جس کے لیے فلسطینیوں کی متروکہ اراضی کو استعمال کیا گیا۔ اس کےعلاوہ بیت لحم کی 7000 ایکڑ اراضی بیت المقدس میں یہودی بلدیہ کی توسیع کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے سنہ 1948 ء کے بعد سے اب تک فلسطین سے جبرا نکالے گئے فلسطینی شہریوں کی املاک پرقبضے کی غرض سے پارلیمنٹ سے ایک متنازعہ قانون منظور کرایا تھا جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ حال ہی میں اسرائیلی عدالت نے متروکہ املاک قانون پرفیصلہ دیتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو فلسطینیوں کی املاک پر تصرف کی اجازت دے دی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
