مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی حکومت ایک طرف مالی بحران کا شور اٹھا رکھا ہے جبکہ دوسری جانب مفلوک الحال حکومت کی ترجمان نورعودہ ایک ہی آن میں حکومتی خزانے سے تیرہ ہزار ڈالر نکلوا رہی ہیں۔ اس امر کا انکشاف غرب اردن میں پبلک سرونٹس یونین کے صدر بسام زکارنہ نے کیا ہے۔
بسام زکارنہ نے خبر رساں ادارے قدس پریس سے بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سلام فیاض حکومت کے اخراجات کی میرٹ پر تفتیش کرائی جائے کیونکہ ایک جانب حکومت ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے جبکہ دوسری جانب من پسند افراد کے بھاری مشاہرے اور دیگر اللوں تللوں کے لئے پیشگیوں کی ادائیگی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔بسام زکارنہ نے کہا کہ پیشگی مشاہرے کی مد میں ہزاروں ڈالر بٹورنے والی فلسطینی حکومت کی ترجمان کس منہ سے فاقہ کشی پر مجبور سرکاری ملازمین کو کام پر واپس آنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ قدس پریس نے جب فلسطین حکومت کی ترجمان سے سرکاری ملازمین یونین کے صدر کے الزام پر تبصرہ کے لئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر اپنا ردعمل دینے سے انکار کر دیا۔
