لبنان کے ایک نجی ٹی وی”ایم ٹی وی” کے پروگرام”کثیر سلبی” میں فلسطینیوں کےخلاف ایک دستاویزی رپورٹ نشرکرنے پر فلسطینیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق لبنانی ٹی وی کی رپورٹ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے روزگار کےحصول کی کوششوں اور ملکیت کے حقوق کے لیے کی جانے والی مساعی کو متنازعہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
لبنانی نیوزچینل "ایم ٹی وی” کی رپورٹ پر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پر فلسطینی شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ فیس بک پر شہریوں نے لبنانی ٹی وی کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں اسرائیل حامی قرار دیا ہے۔ فیس بک پر ناقدین کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کےخلاف اس قماش کے تبصرے اور رپورٹس نشرکرنا صہیونی میڈیا کی پہچان رہی ہے۔ لبنانی ٹی وی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کی مظلومیت کا اس بھونڈے طریقے سے مذاق اڑائے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ فلسطینی پناہ گزین چاہے وہ جس ملک میں موجود ہیں انہیں وہاں پر اس ملک کےشہریوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔ لبنان میں بھی فلسطینی پناہ گزین اپنے جائزحقوق جن میں حق ملکیت اور حق روزگار شامل ہیں کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ نجی ٹی وی نے فلسطینیوں کے ان حقوق کا مذاق اڑا کرخود لبنانی ریاستی پالیسی کی نفی کی ہے کیونکہ لبنان میں موجود لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔

