لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کے نمائندہ اتحاد نے امریکی سرپرستی میں واشنگٹن میں جاری امن مذاکرات کا ڈھونگ مسترد کر دیا ہے۔ فلسطینی اتحاد کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی اسرائیل اور امریکا کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔ ان مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم کی پردہ پوشی کرنا اور صہیونی مجرموں کو انصاف کےکٹہرے میں لانے کی مساعی کو ناکام بنانا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ رام اللہ اتھارٹی کے نام نہاد مذاکرات مسئلہ فلسطین اور مظلوم قوم کی تحریک آزادی کی جدو جہد کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہیں۔
اسرائیلی دشمن ایک جانب فلسطین میں نسل کشی، نسل پرستی، ریاستی دہشت گردی اور غیرقانونی یہودی آباد کاری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور فلسطینی انتظامیہ دشمن کی اس جارحیت کو بند کرانے کے بجائے بے مقصد ایجنڈے پر مذاکرات کر رہی ہے۔
بیان میں استفسار کیا گیا کہ "کیا فلسطینی مذاکرات کاروں نے جزیرہ نما نقب کے ہزاروں شہروں کی بے دخلی پر کوئی حرف احتجاج بلند کیا ہے؟ کیا انہوں نے غزہ کی پٹی کے سات سال سے جاری محاصرے کے خلاف کوئی آواز اٹھائی ہے؟ کیا مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت دیگر فلسطینی شہروں میں جاری غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر بند کرانے پر بھی زور دیا گیا ہے؟ یقینا ایسا نہیں کیا گیا۔ اگر فلسطینی مذاکرات کار اپنے ایجنڈے میں یہ تمام مسائل اور مطالبات نہیں رکھ سکتے ہیں تو انہیں قوم کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کا بھی کوئی اختیار نہیں ہے۔
بیان میں فلسطینی اتھارٹی سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صہیونی دشمن کے ساتھ اس کی شرائط پر مذاکرات سے دستکش ہونے کا اعلان کرتے ہوئے صہیونیوں کے جنگی جرائم میں پردہ پوشی سے گریز کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
