فلسطین کے مقدس اور تاریخی اسلامی شہر بیت المقدس سے اظہاریکجہتی کے لیے دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں شہریوں کے ساتھ مل کر احتجاج کرنے والے ہزاروں فلسطینیوں اور قابض صہیونی فوج کےدرمیان سخت جھڑپیں ہوئی ہیں۔
فلسطینی شہروں مقبوضہ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور بیت المقدس سے ہزاروں افراد نے القدس کی جانب ملین مارچ کیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں دینی سیاسی جماعتوں کی دعوت پر شہر کے شمال کی جانب بیت حانون گذرگاہ سے ہزاروں افراد نے گذرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر تعینات اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد فلسطینی شہریوں پر پل پڑی۔ جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بیت حانون میں جمع فلسطینیوں نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر”اقصیٰ ہم تجھ پر دل وجان اور روح سے قربان”، اقصیٰ ہم آ رہے ہیں۔ اسرائیل مردہ باد، فلسطین زندہ باد اوراس طرح کے دسیوں
نعرے درج تھے۔
فلسطین کی سب سے بڑی اور منظم جماعت اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے مطابق غزہ کی کئی مقامی تنظیموں کے تعاون سے سیکڑوں بسوں کے قافلے بیت حانون کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔ اس موقع پر حماس کے رہ نما اور تنظیم کے عوامی امور سے متعلق شعبے کے نگران ڈاکٹر احمد ابوحلیبہ نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں لاکھوں افراد القدس ملین مارچ میں شرکت کی خواہش رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں شہری ملین مارچ میں شرکت کے لیےبیت حانون گذرگاہ پر پہنچے ہیں، لیکن قابض اسرائیلی فوج نے نہتے فلسطینیوں کو گھیرگھیر کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
ڈاکٹر ابوحلیبہ کا کہنا ہے کہ القدس ملین مارچ میں کم سے کم تین ملین افراد شرکت کرہے ہیں۔ ادھر مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں بھی جمعہ کے روز فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان بڑے شہر میدان جنگ بنے رہے۔ قابض صہیونی فوج فلسطینیوں کو القدس ملین مارچ میں شرکت سے روکنے کی پوری کوشش کرتی رہی اور فلسطینی مارچ میں شرکت پر مصر تھے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے اسی ممالک سے تعلق رکھنے والی سات سو تنظیموں نے بیت المقدس سے اظہار یکجہتی کے لیے قافلے القدس کی سرحد کی جانب روانہ کیے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

