تیرہ جون کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے تین یہودی لڑکوں کی پراسرار گمشدگی کے بعد ان کی تلاش کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے بھی بھرپور تعاون کیا ہے۔
یہی وجہ ہےکہ گم شدہ لڑکوں کی ماؤں نے صدر محمود عباس، الخلیل شہر کے فتحاوی میئر کی مساعی کی تعریف کرتے ہوئے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق لاپتا لڑکے نفتالی فرانکو کی والدہ راحیل فرانکو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "ہم اس صاحب ضمیر انسان کا شکریہ ادا کرتےہیں جس نے ہمارے بچوں کی گم شدگی کا دکھ محسوس کیا اور ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے۔ ہم محمود عباس کے بھی شکرگذار ہیں اور چیئرمین الخلیل بلدیہ کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے ہمارے بچوں کی تلاش میں ہمارے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا ہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ لاپتا بچوں کی تلاش تک اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔
مقبوضہ فلسطینی شہر تل ابیب میں "رابین” گراؤنڈ میں لاپتا یہودیوں سے یکجہتی کے لیے نکالی گئی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسز راحیل فرانکو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنے طور پر ہمارے بچوں کی تلاش کے لیے مثبت کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
خیال رہے کہ 12 جون بروز جمعرات شام کو مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے تین یہودی لڑکے پراسرار طور پر لاپتا ہوگئے تھے۔ آج تک ان کی گم شدگی کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے یہودی لڑکوں کو اغواء کر رکھا ہے۔ تاہم حماس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
