مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسٹر لائبرمین نے جمعہ کے روز بیت المقدس کے جنوب میں قدیمی قصبوں”سلوان” اور وادی حلوہ کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پرسیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ مسٹرلائبرمین کی آمد سے قبل ہی سلوان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں یہودی فوج اور پولیس کےمسلح دستے گشت کر رہے تھے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق لائبرمین کے اس اشتعال انگیز دورے میں ان کے ہمراہ فلسطین میں یہودی آباد کاری کی پرچارک صہیونی تنظیم”العاد” کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیری بھی موجود تھے۔ انہوں نے وادی حلوہ اور سلوان قصبوں میں نام نہاد یہودی آثارقدیمہ کے لیے کی جانے والی کھدائی کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو مزید ہدایات بھی جاری کیں۔
ادھرلائبرمین کی آمد پروادی حلوہ میں فلسطینی شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں سیکڑوں افراد شریک تھے۔ انہوں نے ہاتھوں میں کتبے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اورلائبرمین کو فلسطینیوں کا "قاتل” قراردیتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
فلسطینیوں کے احتجاج کے بعد لائبرمین اور ان کے ہمراہ آنے والا انتہا پسند یہودیوں کا ٹولہ واپس چلا گیا۔
ادھراسرائیلی میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ لائبرمین کا یہ خفیہ دورہ بیت المقدس وہاں پرموجود یہودیوں کواپنی ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرانا تھا۔ ذرائع کے مطابق لائبرمین نے بیت المقدس کے انتہا پسندوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ شہرمیں مزید کھدائیاں بھی جاری رکھیں گے اور اس کے علاوہ وہاں پرآباد یہودی آبادکاروں کا ہرممکن تحفظ کیاجائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
