اسرائیلی عدالت نے انوکھے انصاف کا مظاہرہ کرتے بیت المقدس کے تین رہائشیوں کو رہا کرنے کے بعد انہیں سخت نظربندی کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے تینوں ملزموں کو دس ہزار شیکل جرمانے کی بھی سزا سنائی ہے۔
نظربندی کے دوران تینوں ملزموں کو صرف اپنے رشتے داروں سے ملنے کی اجازت ہو گی۔ نیز دوران نظربندی ان کے انٹرنیٹ استعمال کرنے پر بھی پابندی ہو گی۔
بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے اسیران کے اہل خانہ پر مشتمل کمیٹی نے بتایا کہ قیدیوں کے نام حسن حلسہ، نہار حلسہ اور علی عبید بتائے ہیں۔ انہیں گیارہ نومبر 2011 ء کو اغوا کیا گیا۔ ان پر مقبوضہ بیت المقدس میں حماس کی سرگرمیاں منظم کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔
کمیٹی نے مزید بتایا کہ اعلی صہیونی عدالت نے تینوں افراد کو نظر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اعلی عدلیہ نے مقدمہ ضلعی عدالت کے سپرد کرتے ہوئے مقدسی اسیران کی رہائی اور بعد میں دوبارہ نظری بندی کا طریقہ کار وضع کرنے کا ہدایت کی ہے۔
نظر بند کئے جانے والے تینوں مقدسی شہری صاحب اولاد ہیں۔ رملہ جیل سے ان کی تل ابیب منتقلی کو ان کی رہائی کا پیش خیمہ سمجھا جا رہا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
