رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ کے زیرانتظام پلاننگ و بلڈنگ کونسل نے جلد ہی ایک خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ’’ہیکل توراتی‘‘ نامی منصوبے پر کام شروع کرنے پرغور کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس بار اس منصوبے میں اسرائیلی وزارت قانون براہ راست شامل ہے جس کی وجہ سے غالب امکان ہے کہ کمیٹی جلد از جلد اس منصوبے کی منظوری دے دے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پیشتر’’ہیکل توراتی‘‘ کی تعمیر کا ٹھیکہ’’العاد‘‘ نامی ایک اسرائیلی تنظیم کو دیا گیا تھا مگراس پر تنقید کے بعد کام روک دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے دوبارہ اجلاس منعقد کرنے کا مقصد سابقہ منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کرتےہوئے نئے سرے سے اس کا نقشہ تیار کرنا اور اس کی منظوری کے بعد اس پرآنے والی لاگت کا تعین کرنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پلاننگ کمیٹی کی جانب سے ہیکل توراتی کی تعمیر پر غور کے لیے یہ اجلاس اسرائیلی وزارت قانون و انصاف کی ہدایت کے تحت بلایا جا رہا ہے۔ چند روز قبل ہونے والے ایک اجلاس میں بھی وزارت قانون کے نمائندے شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق ’’ہیکل توراتی‘‘ نامی یہودی توسیع پسندی کا یہ منصوبہ کئی سال پیشتر بھی پیش کیا گیا تھا مگر اس پرآنے والے اعتراضات کے بعد اسے موخر کردیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے لیے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے قریب 16 ہزار مربع میٹر کی جگہ مختص کی گئی ہے۔ ہیکل توراتی کے نام سے سات منزلہ اونچی عمارت تعمیر کی جائے گی جس میں یہودی معابد کے علاوہ کئی دوسرے مذہبی ادارے اور دفاتر قائم کیے جائیں گے۔
