قارئین! آپ کے سامنےایسے ہی نیک بخت اور خوش قسمت مگر ستم رسیدہ ایک فلسطینی کے احوال بیان کیے جا رہے ہیں جو قبلہ اول کے پہلو میں رہائش تورکھتا ہے مگراسے اس کے بدلے میں کس طرح کے مظالم اٹھانا پڑ رہے ہیں وہ الفاظ میں بیان کرنے کے قابل نہیں ہے۔ قبلہ اول کے پڑوس میں رہائش کی خوشی اس خوش نصیب مگر مظلوم فلسطینی کے لیے ہرطرح کی راحت کا سامان ہے۔ وہ قبلہ اول کا قرب چھوڑنے کو ایمان چھوڑنے کے برابر ایک گناہ سمجھتا ہے اور اس کی قربت کو اپنے دین وایمان کا جزو خیال کرتا ہے۔
جی ہاں! اس خوش نصیب مظلوم کا نام عماد ابو خدیجہ ہے۔ زندگی کی 54 بہاریں اس نے اسی ستم میں گذار دیں۔ اس دوران اسے بارہا طاقت، دھونس اور لالچ کے ذریعے ڈرایا دھمکایا گیا اور اسے خریدنے کی بھی کوشش کی گئی۔ مگر وہ نہ جھکا، نہ بکا اور نہ ہی کسی لالچ اور طاقت کے دبائو کا شکار ہوا۔
دن کے چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن اور سال کے تین سو ساٹھ ایام میں صہیونی سفاک فوج کی بندوقوں کی گھن گرج میں دیوار براق کے ہمسائے اور قبلہ اول کے محافظ و مرابط عماد ابو خدیجہ کے شب و روز کیسے گذرتے ہیں۔ آئیے اس کی زبانی پڑھتے اور سنتے ہیں۔
’’میرا نام عماد ابو خدیجہ المقدسی ہے۔ بیت المقدس کا باشندہ اور قبلہ اول کا ہمسایہ ہونے پرمجھے فخرہے۔ میرا مکان مسجد اقصیٰ کے سات دروازوں میں سے ایک اہم مرکزی دروازے’’باب السلسلہ‘‘ کے سامنے محض چند میٹر دوری پرہے۔ گھرسےباہرقدم رکھتےہی پہلے ہرایک کی نظر قبلہ اول کے گنبد پرپڑتی ہے اور ہرطرح کی پریشیانی کافور ہوجاتی ہے۔ میرے لیے سب کچھ قبلہ اول کے پڑوس میں گھرکا ہونا ہے اورتادم مرگ میں اسی جگہ رہنا ہی اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتا ہوں۔
مگرمیری یہ سعادت اور خوش بختی اپنی جگہ، مجھے اور میرے اہل وعیال کواس کی جو قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ جب سے صہیونیوں نے قبلہ اول کو اپنے ناپاک پنجوں میں جکڑا ہے تب سے ہماری زندگی بھی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ دن اور رات کے بیشتر اوقات ہمیں غیراعلانیہ کرفیو کا سامنا رہتا ہے۔
والد مرحوم کے دور میں بنا مکان اب ایک ویران خانہ بن چکا ہے۔ بہ قول شخصے’’ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے‘‘۔ ہم مکان کی تعمیرومرمت نہیں کراسکتے کیونکہ ہمیں اسرائیلیوں کی طرف سے ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم نے مکان کی سفیدی کی کئی بار کوشش کی مگر ہم ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ اگرہم مکان میں کوئی معمولی مرمتی کام بھی کرتے ہیں تواس کی سزا اسرائیلی جیلوں کی کال کوٹھڑی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ ایسے حالات میں میَں اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ہمراہ سال ہا سال سے رہ رہا ہوں۔ ی اب مکان ہماری ضرورت کے مطابق نہیں اور بہت تنگ ہوچکا ہے۔ دیواریں، فرش اور چھت سب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مگر ہم بے بس ہیں کیونکہ ہماری ہر لمحے مانیٹرنگ کی جاتی ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔
لوگ اپنے گھرمیں داخل ہوکر خوشی، اطمینان اور آزادی محسوس کرتے ہیں مگر ہمارا گھر ہی ہمارے لیے ایک جیل کی طرح ہے کیونکہ اسرائیلی فوجی جب چاہتے ہیں بلا اجازت گھر کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے اندر داخل ہوجاتے ہیں۔ گھر کے کچن اور برتنوں تک کی تلاشی لیتے ہیں اور ہم صبرو ثبات کے اور کچھ نہیں کرسکتے۔ اگرہم مزاحمت کرتے ہیں تو طاقت کے ذریعے مکان سے نکال باہر کیے جائیں گے۔ ہمیں اپنے گھرمیں سانس بھی اسرائیلیوں کی اجازت سے لینا پڑتی ہے کیونکہ مکان کی ایک تنگ سی بالکونی میں ہمیں بیٹھنے اور گیلے کپڑے سکھانے کےلیے پھیلانے کو صہیونی فوجیوں سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ جب تک وہ ہمیں لکھ کرنہ دیں ہم اپنے مکان کی بالکونی میں بیٹھ کرٹھنڈی ہوا کھا سکتے ہیں اور نہ وہاں کپڑے پھیلا سکتے ہیں۔ تاہم جب کبھی ہم اس بالکونی میں آہی جاتے ہیں تو سامنے دیوار براق اور قبلہ اول کے گنبد کو دیکھ کرنہال ہوجاتے ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ یہودی فوجی جب چاہتے ہیں ہمارے مکان کی بالکونی میں آ بیٹھتے ہیں۔ وہ وہاں گپیں ہانکتے اور ہمارے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ اخلاق باختہ یہودیوں کی زبان سے گالی گلوچ تک سنی جاتی ہے مگر ہم خون کے گھنٹ پی کر رہ جاتے ہیں۔ میرے بیوی بچوں کے لیے یہ سب برداشت کرنا بہت مشکل ہے مگراب ہم اس کےعادی ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ ہم نے بہر حال اسی مکان میں رہنا ہے۔
روزانہ صبح کے وقت ہم یہودی بلوائیوں کی آوازیں سنتے ہیں جو اونچی اونچی آوازوں میں فلسطینیوں،عربوں اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہمارے گھرکے قریب سے گذرتے اور قبلہ اول پریلغار کرتے ہیں۔
میرے والد سے ورثے میں مجھے اس مکان کے علاوہ قریب ہی ایک چھوٹی دکان بھی ملی تھی۔ اس پریہودیوں نے جبری قبضے کی بہت کوشش کی مگرمیں نے اسے بھی ابھی تک اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے ہمیں مکان خالی کرنے کے لیے باربار دبائو ڈالا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ مجھ سے میرا مکان اور قبلہ اول کا پڑوس چھیننے کے لیے قیمت لگائی جاتی ہے۔ یہودیوں کی جانب سے میرے مکان کی کئی ملین شیکل قیمت لگائی گئی، لیکن میرے لیے دنیا و ما فیھا بھی قبلہ اول کے پڑوس کے مقابلے میں حقیرہیں۔ میری زندگی، میری روح اور میرا سب کچھ قبلہ اول کے لیے ہے۔ میں اپنا مکان اور دکان کسی قیمت پرصہیونیوں کو نہیں دے سکتا۔ میں جانتا ہوں کہ یہاں زندگی گذارنا بہت مشکل ہے۔ہماری زندگی اجیرن ہوچکی ہے اور ہمیں بیت المقدس سےنکلنے اور قبلہ اول چھوڑنے کے لیے ہرطرح کے وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں مگرجب تک جسم میں سانس باقی ہے ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے۔ ہم اور ستم اٹھائی گے مگر قبلہ اول کا پہلو نہیں چھوڑیں گے‘‘۔
عماد ابو خدیجہ ان ہزاروں فلسطینیوں میں سے ایک ہیں جو صہیونی سفاکیت کا مسلسل سامنا کررہے ہیں۔ قبلہ اول کے اڑوس پڑوس میں ایسے ہزاروں خاندان آباد ہیں جنہیں اسی طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے جیسا کہ ابو خدیجہ نے بیان کیا۔ اس ایک واقعے سے القدس نے باشندوں کو درپیش روزمرہ کی مشکلات کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں رہ جاتا۔ فلسطینی تمام تر مشکلات تو برداشت کررہے ہیں مگروہ قبلہ اول اور بیت المقدس کو چھوڑنے پرتیارنہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
