اس رپورٹ میں مرکز اطلاعات فلسطین نے قبلہ اول کے گرد خفیہ مانیٹرنگ کیمروں کی مدد سے مقدس مقام کا گھیرائو کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہریوں کو خوف زدہ کرنے کے مکروہ صہیونی ہتھکنڈے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ فوج، پولیس، خفیہ اداروں اور انتہا پسند یہودی دہشت گردوں کو مسلط کرنے کے بعد صہیونی ریاست کو جب اندازہ ہوا کہ فلسطینی مسجد اقصیٰ سے اپنا رشتہ ہرقیمت پربرقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں روکنے اور اہالیان القدس کا ناطقہ بند کرنے کے لیے جگہ جگہ خفیہ کیمرے نصب کرکے انہیں خوف زدہ کرنے کی بھونڈی کوششیں کی جارہی ہیں۔
مسجد اقصیٰ کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پرنصب خفیہ کیمروں کے ذریعے قبلہ اول میں ہرآنے جانے والی کی نگرانی کوئی نئی سازش نہیں بلکہ عمل بھی کئی سال سے جاری ہے۔ البتہ وقت گذرنے کے ساتھ اس میں زیادہ شدت ضرورآئی ہے۔ صرف مسجدا قصیٰ کے آس پاس ہی نہیں بلکہ بیت المقدس کے چپے چپے پر خفیہ کیمرے نصب ہیں۔ ماہ صیام سے قبل مسجد اقصیٰ کے”باب المطہرہ” کے باہر دو اضافی خفیہ کیمرے نصب کیے گئے حالانکہ وہاں پر پہلے سے دو کیمرے موجود تھے۔
قبلہ اول کے محافظوں کا کہنا ہے کہ قابض صہیونی پولیس نے نہ صرف کئی نئے کیمرے نصب کیے ہیں بلکہ پہلے سے لگے بعض کیمروں کو ہٹانے کے بعد ان کی جگہ نئے اور جدید سہولیات سے آراستہ کیمرے لگائے گئے ہیں۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ نئے مانیٹرنگ کیمرے جدید ٹیکنالوجی اور آلات سے آراستہ وپیراستہ ہیں، جو نہ صرف کسی بھی متحرک اور ساکن چیز کی صاف تصویراور ویڈٰوز بناتے ہیں بلکہ زیادہ فاصلے تک تصویر بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یوں ان کیمروں کے سامنے سے گذرنے والے کسی بھی شخص کو با آسانی پہچانا جاسکتا ہے۔ لیزر ٹیکنالوجی سے لیس یہ خفیہ کیمرے دن کے اوقات کے ساتھ ساتھ رات کی تاریکی میں بھی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماضی میں ایسے کیمرے کہیں بھی نہیں دیکھے گئے۔
صہیونی سازش کے پس پردہ مذموم مقاصد
بیت المقدس میں خفیہ کیمرے نصب کرنے کی صہیونی سازش کے پس پردہ مذموم مقاصد میں سب سے اہم مقصد اہالیان القدس کی ہمہ وقت چکینگ اور مسجد اقصیٰ میں آنے والوں کی چھان بین کرنا ہے۔ یہ دیکھنا کہ قبلہ اول میں کون شخص پانچ وقت کی نماز ادا کرنے آتا ہے۔ اس کی عمرکا تعین کرنا اور حسب ضرورت اسے قبلہ اول میں داخلے سے روکنے کے لیے ہراساں کرنا اوربیت المقدس کے شہریوں کو قبلہ اول سے دور رکھتے ہوئے ان پر ہروقت خوف کی کیفیت طاری رکھنا ہے۔
مقامی سماجی کارکن ناجی بکیرات کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں صہیونی ریاست کی جانب سے خفیہ کیمرے نصب کرنے کے پیچھے تین اہم محرکات ہیں۔ بیت المقدس کی تاریخی اہمیت، شہر میں موجود اسلامی اور عرب آثارقدیمہ جن میں مسجد اقصیٰ بھی شامل ہے جو بیت المقدس کے کل رقبے کا کے چھٹے حصے کو گھیرے ہوئے ہے۔ تیسرا محرک اقتصادی ہے۔ اسرائیل بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں پرگھیرا تنگ کرنے کی سازش کررہا ہے تاکہ اقتصادی طورپر انہیں مفلوج اور دیوالیہ بنا کر وہاں سے نکال باہر کیا جائے۔ اگرچہ فی الحال مشرقی بیت المقدس میں فلسطینی کل آبادی کا 65 فی صد ہیں مگرانہیں جس نوعیت کی پابندیوں اور مشکلات کا سامنا ہے وہ ناقابل بیان ہیں۔ تاریخی اہمیت، جغرافیائی حیثیت اور اقتصادی پہلو وہ تین بنیادی محرکات ہیں جن کی آڑ میں اسرائیل بیت المقدس میں چپے چپے پرخفیہ کیمرے نصب کرکے اہالیان بیت المقدس کی زندگی اجیرن بنانے اور نظام حیات مفلوج کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔
ناجی بکیرات کا کہناہے کہ اسرائیل کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ وہ بیت المقدس پراپنی بالادستی ثابت کرتے ہوئے شہرکی تاریخ، جغرافیے اور اس کی اسلامی حیثیت کو تبدیل کرتے ہوئے اس پر یہودیت اور عبرانیت کا رنگ چڑھائے۔ کلی طورپر اسرائیل اس سازش میں کامیاب تو نہیں ہوسکا مگر بیت المقدس میں قدم قدم پر صہیونی پولیس اور فوج کے مراکز کا قیام اس سازش کو آگے بڑھانے کی گہری سازش ہیں۔ اس وقت بھی مشرقی بیت المقدس بالخصوص مسجد اقصیٰ کے آس پاس اسرائیل کے 8 بڑے پولیس تھانے قائم ہیں۔ کوئی سڑک، کوئی چوک اور کوئی اہم جگہ ایسی نہیں جہاں صہیونی فوج کی ہنگامی چوکیاں قائم نہ ہوں۔ اسرائیل عملی طورپر بیت المقدس پر عبرانی قلعی چڑھانے کے لیے القدس کی تاریخی عمارات کے نام تک تبدیل کرنے کی سازش کررہا ہے۔ سڑکوں اور تاریخی مقامات کے نام عربی کے بجائے عبرانی میں لکھے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی پرچم ہر جگہ لہرائے جاتے ہیں اور بیت المقدس پر یہودی رنگ چڑھانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا۔
بیت المقدس میں یہودی آبادی کو غلبہ دینے کے لیے ہرجگہ یہودی مراکز، اسکول، ثقافتی مراکز کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ جگہ معابد بنائے جا رہے ہیں تاکہ دیکھنے والوں کو بھی یہ گمان گذرے کہ بیت المقدس کسی طورپر بھی مسلمانوں کا تاریخی اسلامی شہر نہیں بلکہ یہ مکمل طور عبرانیت اور یہودیت کا محور و مرکز ہے اور اسی مرکز کو صہیونی ریاست کا "ابدی” دارالحکومت ہونے کا درجہ حاصل ہونا چاہیے۔
تاریخ مسخ کرنے کی سازش
بیت المقدس کی چودہ سو سال پرانی اسلامی تاریخ اس وقت نہایت خطرناک موڑ میں داخل ہوچکی ہے۔ بیت المقدس میں اسرائیل کی ضلعی حکومت مقدس شہر کو یہودیت میں تبدیل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اور آلہ کار ہے جس نےنہ صرف بیت المقدس کی تقسیم کے لیے کئی مقامات پر دیوار فاصل تعمیر کررکھے بلکہ بیت المقدس کے دروبام کو یہودی رنگ دینے کے لیے سالانہ کروڑوں ڈالر کا بجٹ پھونکا جا رہا ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ اسرائیلی غنڈہ گردی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسرائیل قبلہ اول کی موجودگی کو اپنی سازشوں کی تکمیل کی راہ میں حائل ایک بھاری پتھر سمجھتا ہے اور اسے ہٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کررہا ہے۔ یہ قبلہ اول ہی ہے جو اس وقت پوری فلسطینی قوم کو اپنے ساتھ مربوط کیے ہوئے ہے۔ یہی وجہ کہ اسرائیل کی تمام ترسازشوں، فوجی طاقت کے استعمال، پولیس گردی، یہودی غنڈہ گردی، عبرانی رنگ چڑھانے سمیت جتنی بھی سازشیں کی گئی ہیں مسجد اقصیٰ سے محبت رکھنے والوں نے وہ تمام سازشیں یکسرناکام بنا دی ہیں۔ ماہ صیام، جمعہ کے ایام، عیدن اور دیگر اہم مواقع پر لاکھوں فلسطینی بیت المقدس میں جمع ہو جاتے ہیں صہیونی دہشت گرد فوجی طاقت کے اندھا دھند استعمال کے باوجود سرپیٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اب انہوں نے بیت المقدس میں فلسطینیوں کاداخلہ مزید محدود کرنے کا حل خفیہ کیمروں کی تنصیب میں ڈھونڈا ہے لیکن یہ سازش بھی کامیاب نہیں ہوگی۔
فلسطینی محکمہ اوقاف اور صہیونی پولیس کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں خفیہ کیمرے نصب کرنے کے خلاف احتجاج کے باوجود قابض فوج نے قبۃ الصخرہ پرطاقت کے ذریعے ایک کیمرہ نصب کر رکھا ہے۔
عوامی تحریک وقت کی ضرورت
اسرائیل کی جانب سے قبلہ اول کے گردو پیش اور اس کے اندر خفیہ کیمروں کی تنصیب کو عبادات اور مذہبی امور میں صہیونی حکام کی کھلی مداخلت قراردیا ہے اور کہا ہے کہ مانیٹرنگ کیمرےمذہبی آزادیوں پر قدغںیں لگانیں کے مترادف ہیں۔
مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہودی غنڈہ گرد اور اسرائیلی پولیس اہلکار فلسطینیوں پر تشدد کے معاملے میں ملی بھگت سے کام لیتے ہیں۔ کسی یہودی کی جانب سے جب فلسطینی کسی فلسطینی شہرپرحملہ کیا جاتا ہے تو اگر اس کے مناظر کسی خفیہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہوجاتے ہیں توپہلے تو اس ثبوت کو غائب کردیا جاتا ہے۔ اگر ثبوت رہ بھی جائے تو اس کی ویڈیو بناتے وقت اس کا ٹائم تبدیل کردیا جاتا ہے اور اس میں اس طرح کی من مانی ایڈیٹنگ کی جاتی ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ مارکھانے والا یہودی اور مارنے والا فلسطینی ہے۔ یوں اگر معاملہ کسی عدالت تک پہنچ جائے تو وہاں یہ خود ساختہ اور جعلی ویڈیو ثبوت فراہم کرکے فلسطینیوں کے خلاف سنگین سزائیں منظور کرالی جاتی ہیں۔ ناجی بکیرات کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں ضرورت اس امرکی ہے کہ فلسطینی عوام متحد ہوکرصہیونی ریاست کی اس سازش کا مقابلہ کریں۔ خاص طور پربیت المقدس میں رہنے والے وہ سیکڑوں فلسطینی خاندان جو ہمہ وقت ان خفیہ کیمروں کی نظروں میں ہیں انہیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے صہیونی فوج، خفیہ اداروں اور پولیس کی غنڈہ گردی کی روک تھام کرنی چاہیے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
