مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مفتی اعظم فلسطین کے دفتر سے پریس کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو یہودیوں اور مسلمانوں میں زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کرنے، اس کا نام تبدیل کرنے اور اس کے خلاف جاری دیگر ریشہ دوانیوں کے تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں اور خطے کا امن بھی تباہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی تنظیمیں اور اسرائیلی ریاست ایک منظم اور طے شدہ حکمت عملی کے تحت مسجد اقصیٰ کو یہودیانے کی سازشیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں جاری انتخابی مہم سے صاف صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس مہم میں مسجد اقصیٰ کے خلاف زہرافشانی کی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کے قبلہ اول کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے دعوے اور وعدے کیے جا رہے ہیں۔ صہیونی سیاسی جماعتوں میں قبلہ اول کے حوالے سے پایا جانے والا یہ رحجان نہایت خطرناک ہے۔
الشیخ محمد حسین کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کا ایک ایک ذرہ تمام مسلمانوں کی اجتماعی ملکیت ہے جس پر کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہودی اپنے جن مقدس مقامات کی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ من گھڑت واقعات پر مبنی اور حقائق سے انحراف ہے۔ اسرائیل اور صہیونی تحریک منظم منصوبے کے تحت مسلمانوں کو ان کے قبلہ اول سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
