مسجد اقصیٰ کی حفاظت پر مامور عملے نے انکشاف کیا ہے کہ قبلہ اول کی بنیادوں سے کھدائیوں کے دوران نکالی گئی مٹی کے نمونے چوری چھپے اسرائیل کی لیبیارٹریوں تک پہنچائے جا رہے ہیں جہاں ان پر تحقیق کی جا رہی ہے کہ آیا زیرزمین یہودی آثار قدیمہ موجود ہیں یا نہیں ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ کے محافظین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی محکمہ اثار قدیمہ اور یہودی تنظیمیں مشترکہ طور پر قبلہ اول کی بنیادوں سے مٹی کھود کر لے جا رہی ہیں۔ یہودی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بنیادوں میں یہودی آثار قدیمہ کے کھنڈرات موجود ہیں اور اس مٹی سے ان کھنڈرات کی موجودگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔
ادھر فلسطینیوں سے نفرت میں مشہور یہودی مذہبی انتہا پسند "یہودا گلیک” اتوار کے روز اپنے درجنوں غنڈوں کے ہمراہ مراکشی دروازے سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا اور دیر تک مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ اسرائیلی پولیس نے یہودی ربی اور اس کے ساتھیوں کو مکمل سیکیورٹی مہیا کی اور فلسطینی شہریوں کو قبلہ اول سے نکال دیا گیا۔
قبلہ اول کے محافظوں کا کہنا ہے کہ یہودی انتہا پسند "یہودا گلیک” اور اس کے ساتھیوں نے ایک ایسے وقت میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا جب "العاد” اور امناء جبل ہیکل نامی گروپوں کی جانب سے پیش آئند ایام میں بڑی تعداد میں یہودیوں کے قبلہ اول میں جمع ہونے کی اپیل کی ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہودی آئندہ جمعرات کو "عید الشفوعوت” نامی مذہبی تہوار کے موقع پر بڑی تعداد میں قبلہ اول میں داخل ہوں گے جہاں وہ تحریف شدہ توارت کے مطابق مذہبی رسومات ادا کریں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
