مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عمان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر الکیلانی نے کہا کہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کی ملکیت ہے۔ اسرائیل کی حیثیت ایک قابض اور غاصب ریاست کی ہے جس کے ساتھ قبلہ اول کی تقسیم کے لیے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔ مسجد اقصیٰ کی تقسیم کے لیے بات چیت کا مطلب قبلہ اول پر یہودیوں کا حق تسلیم کرنا وہاں پر مزعومہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وصفی الکیلانی نے کہا کہ ان دنوں اسرائیل کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں قبلہ اول کو تقسیم کرنے کی ناپسندیدہ بحث چل رہی ہے۔ صہیونی ریاست قبلہ اول کو زمانی اور مکانی اعتبار سے یہودیوں اور مسلمانوں کے مابین تقسیم کرنے کی سازشیں تیار کررہی ہے۔ میں یہ واضح کردوں کہ قبلہ اول کی 144 ایکڑ خصوصی جگہ، اس کی چھتیں، گیلریاں، قدیم دیواریں، پانی کی نالیاں، مقام براق، کنوئیں، مسجد المروانی، مسجد السفلی اور پورا حرم قدسی ناقابل تقسیم مقامات ہیں جس پر مسلمانوں کے علاوہ کسی دوسری قوم کا کوئی ایک ذرے برابر بھی حق نہیں ہے۔
