اسرائیلی فوج نے نابلس کے قصبے تل سے تعلق رکھنے والے النجاح یونیورسٹی کے استاد 33 سالہ ڈاکٹر فادی عصیدہ کو اردن کے بارڈر سے ملحقہ کرامہ پل پر گرفتار کرلیا۔ فادی عصیدہ ملائیشیا سے عربی زبان میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد واپس نابلس آرہے تھے۔
اسرائیلی حکام نے اس سے پہلے بھی فلسطینی اساتذہ کرام اور ماہرین تعلیم کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ قابض حکام نے اس وقت اپنی جیلوں میں چھ فلسطینی ماہرین تعلیم کو قید کررکھا ہے۔
احرار سنٹر برائے مطالعہ اسیران اور انسانی حقوق کے ڈائریکٹر فواد خفش نے کہا ہے کہ جولائی 2009ء میں اپنے ملک کو چھوڑنے والے ڈاکٹر فادی نے حال ہی میں ملائیشیا یونیورسٹی سے عربی زبان میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے اور انہوں نے اپنے ملک کی خدمت کرنے کے لئے واپس آنے کا فیصلہ کیا تھا مگر انہیں واپسی پر ہی اسرائیلی فوج نے حراست میں لے لیا اور تفتیش کے لئے بتاح تکفا تفتیشی مرکز منتقل کردیا۔
خفش نے بتایا کہ اسرائیل نے ماہرین تعلیم اور اساتذہ کو حراست میں لینے کی مہم سے فلسطینیوں پر ایک فکری محاصرہ مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
