ماحولیاتی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دئیر عمار اور النبی عنئیر کے فلسطینی قدرتی ذخائر قابض اسرائیل کا مستقل نشانہ رہے ہیں۔ اتھارٹی نے اسرائیل کی جانب سے زمینوں پر قبضے، پانی کے چشموں کی خرد برد اور زیتون کے درختوں کو اکھاڑنے کے واقعات کی نشاندہی بھی کی۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے بتایا کہ درجنوں دونم فلسطینی زمین علاقے سے قبضے میں لے لی گئی ہے تاکہ ان پر غیر قانونی یہودی بستیاں تعمیر کی جاسکیں۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والے فلسطینی دیہات پانی کے چشموں سے بھرے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے یہودی آبادکاروں کی ان پر کافی دیر سے نظر ہے۔
دریں اثناء اسرائیلی بلڈوزروں کے ایک جتھے نے سلفیت میں کفر الدیک قصبے کے مغرب میں واقع ایک آثار قدیمہ کی سائٹ پر دھاوا بول کر اسے مسمار کردیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
