• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فوجی کے قاتل فلسطینی کی تلاش اسرائیل کے لیے چیلنج بن گئی: ماہرین

بدھ 25-09-2013
in فلسطین
0
plf 25 gun
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں اتوار کے روز فلسطینی نشانہ باز کی گولی سے صہیونی فوجی اہلکار کی ہلاکت کے بعد قابض فوج نے علاقے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں سمیت تمام سیکیورٹی ایجنسیاں ملزم کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ماہرین اور شکاری کتوں کے ذریعے تلاشی کا عمل جاری ہے۔ دن رات کے کریک ڈاؤن میں درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ فوج نے الخلیل میں رات کا کرفیو لگا رکھا ہے اور سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ رات کے اوقات میں الخلیل کا کوئی باشندہ شہرے سے باہر نہ نکلے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ بھی اپنی فوج کو کوسنے دے رہے ہیں۔ ماہرین ، دانشور ٹی وی ٹاک شوز اور تجزیاتی مضامیں بھی یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ مقتول فوجی گیل کوبی کا قاتل پہلے تو پکڑائی نہیں دے گا اور اگر پکڑا بھی گیا تو وہ صہیونی فوج کو ناکوں چنے چبوا کر یہ موقع فراہم کرے گا۔

اسرائیلی ٹیلی ویژن "ٹی وی 10” کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس حکام کا ماننا ہے کہ کوبی کا قاتل ابھی تک الخلیل شہرہی میں ہے۔ "گفعاتی” اور "الناحل” یونٹوں کے کمانڈوز اور خفیہ اداروں کے اہلکار اس کی تلاش میں مصروف ہیں۔ گھروں میں تلاشی کی کارروائی کے دوران ماہر فوجی کتوں کی نگرانی کرنے والی یونٹ”عوکٹز” کے اہلکار اور تربیت یافتہ کتے بھی مدد کر رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق صہیونی فوج کسی فلسطینی کو رات کے اوقات میں الخلیل سے باہر نہیں جانے دے رہی ہے۔ صبح ہونے کے بعد ہی الخلیل کے باسی بیرون شہر جا سکتے ہیں لیکن صبح ہی کے وقت سے اسرائیلی فوجی گھر گھر تلاشی کا سلسلہ بھی شروع کر دیتے ہیں۔ اسرائیلی فوج انٹیلی جنس اداروں کی معلومات کے مطابق پرامید ہے کہ وہ قاتل تک پہنچ جائے گی کیونکہ شہر میں اس نے فوج کے علاوہ مقامی باشندوں پر مشتمل اپنے ایجنٹ بھی چھوڑ رکھے ہیں۔

اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس حکام کے ان تمام تر دعوؤں کے علی الرغم دفاعی تجزیہ نگار کچھ اور ہی پیشن گوئی کر رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فوج اور خفیہ اداروں کا قاتل تک پہنچنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے، کیونکہ حملہ آور نے ایک ایسےوقت میں فوجی کو گولیاں ماریں جب الخلیل بالخصوص جامع مسجد ابراہیمی کے آس پاس قدم قدم پراسرائیلی فوجی موجود تھے۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک حملہ آور نے اتنے قریب سے فوجی کو گولی ماری اور پھر اس کے بعد غائب ہو گیا۔ یہ حملہ آور کی کامیابی اور اس کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے، کہ اس نے فوجی کو قتل بھی کردیا۔ خود بھی غائب ہو گیا اور حملے میں استعمال ہونے والی بندوق کا سراغ بھی نہیں مل رہا ہے۔ بھلا وہ تفتیشی کتے جو گولی کی بو سونگھ کربندوق کا منٹوں میں پتہ چلا لیتے ہیں۔ اب اس کی تلاش میں کیوں ناکام ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اگر صہیونی فوجی سخت سیکیورٹی میں بھی فلسطینی نشانہ بازوں کے حملوں سے محفوظ نہیں رہتے تو بھلا کارروائی کے بعد وہ کیسے پکڑے جا سکتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا اور صہیونی عسکری حلقوں میں فلسطینی مزاحمت کار کے لیے”الخلیل کا نشانہ باز” کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے فوجی گیل کوبی پر نہایت قریب سے اس طرح تاک کرحملہ کیا تاکہ فوجی سر پھیرنے کا موقع نہ ملے اور حملہ آور راز داری کے ساتھ وہاں سے فرار ہو جائے۔ حملہ آور نے ایسا ہی کیا اور اب اس کا نام و نشان تک نہیں مل رہا ہے۔

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.