خیال رہے کہ ستمبر اور دسمبر 2011 میں دومراحل میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے اپنے زیر حراست ایک اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے 1027 فلسطینی قیدیوں کو رہا کروایا تھا۔ اس کامیاب معاہدے کے بعد سے فلسطینیوں میں صہیونی فوجیوں کے اغوا کی حمایت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق سنٹرل کمانڈ کی فوجی قیادت نے مغربی کنارے میں صہیونی فوجیوں کے اغواکی دھمکیوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوجیوں کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرلیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تبادلہ اسیران معاہدے کے بعد فلسطینی مزاحمت کاروں میں اس موقف کو تائید حاصل ہوئی ہے اپنے قیدیوں کو رہا کروانے کے لیے اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی شاباک کے مطابق تبادلہ اسیران معاہدے کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کی کوششوںمیں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اسی ضمن میں ایک ہفتے قبل مغربی کنارے میں مزاحمت کاروں کے ایک گروہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
