فلسطین میں انسانی حقوق کے مندوبین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مسلسل چودہ ماہ تک حراست میں رکھنے کے بعد فلسطینی سیاسی اور سماجی رہ نما خالد الحاج کو رہا کردیا ہے۔
صہیونی حکومت نےانہیں گرفتار کرانے کے بعد انتظامی حراست میں ڈال دیا تھا جہاں وہ ایک سال اور دو ماہ قید ہے۔ ان کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کےشہر جنین سے ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے”مرکز برائے حقوق انسانی” کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے بتایا کہ صہیونی فوج ماضی میں بھی فلسطینی سیاسی رہ نما خالد کو حراست میں لے کر انہیں انتظامی قید میں ڈالتی رہی ہے۔ خالد اب تک کم سے کم ایک سو ماہ کی انتظامی قید بھگت چکےہیں۔ دوسرے معنوں میں انہوںنے انتظامی حراست سینچری مکمل کرلی ہے۔
رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی رہ نما خالد الحاج نے بتایا کہ دوران حراست صہیونی جیل حکام اور فوجی انہیں مسلسل ایک سے دوسری جیل میں منتقل کرتے رہے۔ انہیں ایک ماہ سے زیادہ کسی ایک جیل میں رہنے نہیں دیا گیا۔ زیادہ تر انہیں شطہ اور مجد جیلوں میں قید میں رکھا گیا۔ خالد نے اپنے ساتھی اسیران کے بارے میں کہا کہ اسرائیلی مظالم کے باوجود فلسطینی اسیران کے حوصلے بلند ہیں۔ قیدیوں کو پورا یقین ہے کہ وہ مشکلات میں وہ تنہا نہیں ہیں بلکہ ان کے دیگر سینکڑوں بھائی بھی اپنے حقوق کے لیے قید و بند کی صعوبتیں اٹھا رہے ہیں۔ نیز فلسطینی قوم کی جانب سے اسیران کے ساتھ کیے جانے والے یکجہتی مظاہروں نے بھی اسیران کا حوصلہ بڑھایا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
