اسرائیلی وزیر اعظم نے اس بار فلسطین کے ساتھ مذاکرات کے لیے سابق وزیر خارجہ زیپی لیوینی کا انتخاب کیا ہے ، 20 سال بیت جانے کے باوجود مذاکرات میں کامیابی نہ ہونے کے
بعد اب لیوینی جیسی نرم خو سیاستدان کو مذاکرات کے میدان میں اتارنے کے پیچھے کیا راز ہے؟ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق لیوینی کا انتخاب بھی گزشتہ برسوں کی طرح دنیا کو دھوکہ دینے کا ایک نیا حربہ ہے۔
بعد اب لیوینی جیسی نرم خو سیاستدان کو مذاکرات کے میدان میں اتارنے کے پیچھے کیا راز ہے؟ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق لیوینی کا انتخاب بھی گزشتہ برسوں کی طرح دنیا کو دھوکہ دینے کا ایک نیا حربہ ہے۔
دو دہائیوں سے عالمی طاقتوں کے دباؤ پر فلسطین کے ساتھ مذاکرات کا ڈرامہ رچانے والے اسرائیل نے کبھی بھی ان مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، اس مرتبہ بھی دو ریاستی حل کے ناکام ہونے کی نوید سننے کے بعد اسرائیل نے ایک بار پھر عالمی برادری کو دھوکہ دینے کے لیے اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نرم خیال کی جانے والی زیپی لیوینی کو مذاکرات کے لیے منتخب کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار ابراھیم مدھون کا کہنا ہے کہ لیوینی کا انتخاب دراصل فلسطینی اتھارٹی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے بھی ہے ، لیوینی کا انتخاب کرکے اسرائیل نے بال فلسطینی اتھارٹی کی کورٹ میں ڈال دیا ہے تاکہ مذاکرات کے حوالے سے اس کے خلوص نیت کو دنیا کے سامنے آشکار کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ زیپی لیوینی کو مذاکرات کے لیے آگے کرنے کا مقصد بھی عالمی دباؤ کو کم کرنا بھی ہے۔
ڈیڈ لاک کا خاتمہ
”مرکز اطلاعات فلسطین” کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ابراھیم مدھون نے مزید کہا کہ لیوینی کو منتخب کرنے کا دوسرا مقصد حالیہ انتخابات کے بعد آنے والے نتائج کے بعد حکومت تشکیل دینے کے حوالے سے پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو توڑنا ہے ۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی کوشش ہے کہ وہ مضبوط حکومت قائم کریں جس میں اکثر پارٹیوں کی نمائندگی ہو اور حکومت کو درپیش مسائل سے بخوبی نمٹا جا سکے۔
ابراہیم مدھون نے بتایا کہ اسرائیل القدس کو یہودیانے اور پورے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی زبردست توسیع کے اپنے منصوبوں کی پردہ پوشی اور دنیا کے سامنے اسرائیل کے جارحانہ تاثر کو زائل کرنے کے لیے فلسطین کے ساتھ مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے۔ اسرائیل گزشتہ دو دہائیوں سے ہمیشہ سے مذاکرات کے لیے بھرپور تیار ہوتا ہے اور ساتھ ہی اس ضمن میں عملی اقدامات اٹھانے کے لیے یکسر انکاری بھی۔
دوسری مدت کے لیے صدر بننے کے بعداوباما کی جانب سے سب سے پہلے اسرائیل کے دورے کے فیصلے اور اسرائیل کی جانب سے زیپی لیوینی کو فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار کرنے میں تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان دونوں معاملات میں تھوڑا سا تعلق ہے ،اوباما کے دورے کے دوران وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ نئی اسرائیلی حکومت پہلی حکومت کی نسبت کافی تبدیل ہو چکی ہے اور یہ مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں بھی کریگی۔
سیاسی تجزیہ کار نے بتایا کہ لیوینی کو اس وقت بھی دھوکے میں رکھا گیا تھا جب وہ ایہود اولمرٹ کی حکومت میںوزیر خارجہ تھیں، اس مرتبہ بھی انہیں آگے لاکر نیتن یاھو کی حکومت رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور وقت کو ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں کریگی۔
انہوں نے کہا کہ افسوس تو اس بات پر ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ان اوچھے ہتھکنڈوں کو سمجھتے ہوئے بھی مذاکرات کی بحالی پر تیار ہے۔ دو دہائیوں پر پھیلی اسرائیلی دھوکہ دہی کے باوجود فلسطینی اتھارٹی بغیر کسی ٹھوس ضمانت کے حاصل کیے دوبارہ لیوینی کے ساتھ مذاکرات کے کھیل کا حصہ بننے جارہی ہے۔
اوباما کا دورہ
دوسری جانب عبد الحکیم مفید کاکہنا ہے کہ امریکی صدر اوباما اپنے دورے کے دوران فلسطین کے بجائے اسرائیل کے مفادات کوترجیح دیں گے۔ اگر ان کے ا س دورے کی وجہ سے دو طرفہ مذاکرات شروع ہوئے بھی تو وہ مسئلہ فلسطین پر فلسطینی اتھارٹی کے موقف کو رد کر کے اسرائیلی موقف کی تائید میں ہی ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کے سامنے اپنی ساکھ بحال رکھنے کے لیے اوباما اسرائیل کو مذاکرات کے لیے اس حد تک نرمی دکھانے کا کہ سکتے ہیںجس سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل تو ممکن نہ ہوسکے البتہ اسرائیل کو مذاکرات نہ کرنے کی بنا پر مشرق وسطی میں ہونے والے خسارے سے بچایا جا سکے۔
اس سے قبل تحریک حماس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کا ز یپی لیوینی کو مذاکرات کے لیے مقرر کرنے سے ثابت ہوگیا کہ مذاکرات کا اختیار ناکام ہو چکا ہے۔ لیوینی کے تقرر نے بتا دیا کہ مسئلہ فلسطین کا تصفیہ اپنے اختتام کو پہنچ چکاہے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی آپشن بھی ناکامی سے دو چار ہوچکی ۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
