فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ ہم نے اسلام اور فلسطین کے لیے اپنی جانیں وقف کر رکھی ہیں۔ وطن کا ذرہ ذرہ ہمارے لیےمقدس ہے اور ہم اپنے ملک کی ایک اینچ بھی دشمن کونہیں دے سکتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہارغزہ کے دورے پرآئے مختلف غیرملکی وفود اور مصرکے ممتازعالم دین شیخ حافظ السلامہ سے ملاقات میں گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے شیخ السلامہ کی فلسطین، مسلم امہ اور عالم عرب کے لیے طویل خدمات کو سراہا۔ اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ شیخ حافظ السلامہ 80 سال سے اپنی قوم اور ملت کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ پیرانہ سالی کے باوجود وہ آج بھی ایک پرعزم مجاہد ہیں۔ انہوں نے ہر دور میں استعماری قوتوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا، یہی وجہ ہے فلسطین،مصر اور سمیت پوری عرب اور اسلامی دنیا انہیں اپنا امام اور مجاہد رہ نما تسلیم کرتی ہے۔اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ فلسطینی اور مصری عوام جسد واحد کی طرح ہیں۔ مصر کا امن واستحکام فلسطینیوں کا امن واستحکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آزادی کی جنگ صرف زمین کے کسی چھوٹے سے ٹکڑے کے لیے نہیں ہے بلکہ ہم بحر متوسط سے دریائے اردن کے پار تک فلسطین کی اس تمام سرزمین کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں جس پرصہیونیوں نے ناجائز طور پر تسلط قائم کررکھا ہے۔ ہم کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کو نہیں مانتے۔ لاکھوں فلسطینیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے اس لیے پیش نہیں کیے کہ آج فلسطینی اپنے وطن سے دستبردار ہو کرمحض کسی چھوٹے سے زمین کے ٹکڑے پر قناعت کرلیں۔ ہمارے لیے وطن کا ذرہ ذرہ مقدس ہے اورہم اپنے وطن کی سرزمین کی ایک انچ بھی دشمن کے قبضے میں برداشت نہیں کریں گے۔
اسماعیل ھنیہ نے فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ صہیونی دشمن کے خلاف علم جہاد بلند رکھنے اور مزاحمت کا میدان خالی نہ چھوڑنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کے وسط میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے کے دوران فلسطینی مجاہدین نے اپنی طاقت اور بہادری کا لوہا منوایا ہے اوردشمن کو چاروں شانے چت کردیا گیا۔ ہماری یہی کامیابی ہے کہ اب ہم بھی اپنے دشمن کا مقابلہ روایتی نہیں بلکہ ہتھیاروں جدید ترین اسلحے سے کررہے ہیں، میزائلوں کا استعمال ہماری جدید جنگی حکمت عملی کی کامیابی کا عکاس ہے۔
