مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیون دوگریک نے منگل کو نیو یارک میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سوموار کے روز یو این میں فلسطینی مندوب ریاض منصور کی جانب سے ایک مکتوب بین کی مون کو دیا گیا ہے جس میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جاری غیرقانونی توسیع پسندی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے بین کی مون کا موقف واضح ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مسٹر ڈوگریک کا کہنا تھا کہ بین کی مون کئی موقعوں پر فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی یہودی کالونیوں کی تعمیر کی کھلی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے متنازعہ علاقوں میں یک طرفہ طور پر اسرائیل کی آباد کاری امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سے امن کی خدمت نہیں کہا جا سکتا ہے اور یہ عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے جنرل اسمبلی کا ایک اہم اجلاس آج بدھ کو نیو یارک میں منعقد ہو رہا ہے۔ ایک ارجنٹائنی سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ آج کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس میں فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف جنرل اسمبلی سخت موقف اپنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اقوام متحدہ، امریکا اور عالمی برادری کی جانب سے یہودی کالونیوں کے قیام کی مخالفت مسترد کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم بیت المقدس میں ہر جگہ پر یہودیوں کے لیے مکانات تعمیر کرائین گے۔
اسرائیلی ریڈیو کے مطابق جنوبی اسرائیل میں ایک بندرگاہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاھو نے کہا کہ ہم پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ہم یہوی بستیوں کی تعمیر کے ذریعے امن عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ ایک بھونڈا الزام ہے۔ بیت المقدس کے چپے چپے پر یہودی کالونیاں قائم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری دہرے معیار پر چل رہی ہے۔ جب فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس بیت المقدس میں یہودیوں کے قتل پر اکساتے ہیں تو عالمی برادری چپ سادھ لیتی ہئے اور جب ہم کوئی مکان تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو پوری دنیا میں واویلا مچا دیا جاتا ہے۔
نیتن یاھو نے فلسطین میں یہودی کالونیوں کےمعاملے سلامتی کونسل کا اجلاس بلوانے کا مطالبہ کرنے پر بھی فلسطینی صدر محمود عباس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
