مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مصری وزارت خارجہ کے ترجمان اپنے ایک بیان میں کہا کہ بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں اسرائیل کی غیرقانونی یہودی توسیع پسندی کے اقدامات نہ صرف اشتعال انگیز ہیں بلکہ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں فلسطین۔ اسرائیل امن مذاکرات کی کوششیں تباہ ہوگئی ہیں۔
مصری حکومت کے ترجمان نے بیت المقدس کی دو کالونیوں میں 380 مکانات کی تعمیر کے اعلان کی شدید مذمت کی اور صہیونی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ غیرقانونی یہودی کالونیوں کے قیام کا سلسلہ فوری طور پر بند کردے۔
ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ اور متنازعہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی طرف سے غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر عالمی قوانین اور جنیوا معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عالمی قوانین فلسطین کے کسی بھی علاقے میں اسرائیل کو اپنی آبادی کی توسیع کی قطعی اجازت نہیں دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی غیرقانونی یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں کے نتیجے میں فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے لیے جاری کوشیں تباہی سے دوچار ہوئی ہیں۔ اس کی تمام ذمہ داری اسرائیل پرعاید ہوتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
