(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں صدر محمود عباس کے خصوصی فرمان کے تحت سپریم دستوری عدالت کی تشکیل کے فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور صدر کے فیصلے کو غیرآئینی قرار دے کر اسے مسترد کردیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر محمود عباس کی جانب سے گذشتہ روز سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر سپریم دستوری کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جاعتوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ صدر عباس نے آمرانہ انداز میں سپریم دستوری عدالت کا فیصلہ کیا ہے جو کسی بھی طورپر پوری قوم کا نمائندہ اور جمہوری فیصلہ نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق فلسطین کے 18 انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے صدر محمود عباس کے نام ایک مکتوب ارسال کیا گیا ہے جس میں مناسب تھا کہ صدر محمود عباس صدارتی اور پارپارلیمانی انتخابات کے بعد اور فلسطینی عدلیہ کو مجتمع کرکے سپریم دستوری کونسل کا اعلان کرتے،مگر انہوں نے تمام ریاستی اداروں کو بائی پاس کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔
صدر کے نام جاری کردہ پیغام میں مزید کہا گیاہے کہ دستوری عدالت کا قیام تمام آئینی اداروں کی مشاورت سے عمل میں لایا جانا چاہیے۔ صدر محمود عباس نے جس راز داری اور سرعت میں یہ فیصلہ کیا ہے اس کے نتیجے میں دستوری عدالت کا قیام متنازع اور مشکوک ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی اور قانونی سطح پر ناقابل اعتبار بھی ہوچکا ہے۔
صدر کو ارسال کیے گئے مکتوب میں 18 تنظیموں کے نمائندگان کے دستخط ثبت ہیں جس میں صدر عباس سے مطالبہ کیا گیاہے کہ وہ سپریم دستوری عدالت کے قیام کو غیرمتنازع بنانا چاہتے ہیں تو انہیں لا محالہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا ہوگی اور تمام فلسطینی قوتوں کی مشاورت سے دستوری کونسل کی باڈی کااعلان کرنا ہوگا۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز صدر محمود عباس نے سپریم دستوری عدالت کے قیام کا اعلان کرنے کے بعد اپنی مرضی ہی سے اس کے عہدیداروں کا بھی اعلان کردیا۔ محمد عبدالغنی احمد الحاج عدالت نے چیف جسٹس مقرر کیے گئے ہیں جب کہ اسعد بطرس سعید کو ان کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عبدالرحمان عبالحمید عبدالحمید ابو نصر، فتحی عبدالنبی عبداللہ الوحیدی، فتحی حمودہ ابو سرور، حاتم عباس محمد صلاح الدین، رفیق عیسیٰ ابراہیم ابو عیاش، عدنان محمود ابو لیلیٰ اور فواد تیسیر فواد صائمہ کو عدالت کے ارکان مقرر کیا گیا ہے۔
