فلسطین میں سماجی کارکنوں نے رام اللہ اتھارٹی اور اسرائیلی حکومت کے درمیان سنہ 1993ء میں طے پائے "اوسلو معاہدے” کے بیس سال مکمل ہونے کی یاد میں ایک آن لائن مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم میں حالیہ دنوں میں امریکا کی سرپرستی میں ہونے والے فلسطین۔ اسرائیل نام نہاد امن مذاکرات کے نقصانات کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائےگا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سماجی کارکنوں اور مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے حامیوں کی جانب سے اس مہم کی بڑے پیمانے پر حمایت کی جا رہی ہے۔ گوکہ انٹرنیٹ پر سماجی رابطے کی ویب سائیٹس "فیس بک” اور”ٹیوٹر” وغیرہ پر مہم باضابطہ طور پر جمعہ 13 ستمبر سے شروع ہو گی مگر آج تین دن قبل ہی اس کی حمایت شروع ہو چکی ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین۔ اسرائیل مذاکرات مخالف یہ سماجی مہم ایک ایسے وقت میں شروع ہو رہی ہے جب پہلے ہی فلسطینی اتھارٹی صہیونی دشمنوں سے مذاکرات کے باعث عوامی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کر رہی ہے۔ مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں میں نہ صرف دیگر سیاسی جماعتیں شامل ہیں بلکہ صدر محمود عباس کی اپنی جماعت الفتح کا ایک دھڑا بھی ان مذاکرات کو وقت کا ضیاع قراردے رہا ہے۔
جب سے رام اللہ اتھارٹی اورتل ابیب کے درمیان راست مذاکرات شروع ہوئے ہیں فلسطینی شہروں مغربی کنارے اورغزہ کی پٹی میں مذاکرات کے مخالفین نے بڑے بڑے احتجاجی جلوس بھی نکالے ہیں۔ مغربی کنارے میں نکالی جانے والی ریلیوں پرفلسطینی اتھارٹی کی پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے انہیں روکنے کی کوشش کی ہے تاہم اس سے عوام کے غم وغصے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ان مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری میں بھی مزید اضافہ کر دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
