مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ میں مقامی سماجی کارکنوں کے ایک گروپ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طورپر انہوں نے مہم صرف رام اللہ کی حد تک شروع کی ہے لیکن جلد ہی وہ اسے ملک گیر مہم بنانے کی کوشش کریں گے۔ مہم کے تحت ہر اس بیکری کا بائیکاٹ کیا جائے گا جس میں اسرائیل سے حاصل کیے گیا آٹا استعمال ہوگا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کی جانب سے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود بعض ایجنٹ اپنے دنیا مفاد کی خاطر اسرائیل سے آٹا خرید کر فلسطینی مارکیٹ میں پہینچاتے ہیں۔ فلسطینی عوام اسرائیل کی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔
خیال رہے کہ ’’تعفن سے پاک کرو‘‘ کے عنوان سے جاری اس مہم میں اسرائیل کا آٹا اور انڈے استعمال کرنے والوں کے ساتھ ساتھ چار شیکل میں ایک کلو وزن کے برابر روٹیاں دینے والے تندور مالکان کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا۔
فلسطینی تحفظ صارف یونین کے چیئرمین عزمی الشیوخی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی مصنوعات کا بائیکاٹ ہمارا قومی فریضہ ہے۔ جب ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے توہم صہیونی دشمن کی اشیاء کیوں کر خرید کر اسے فایدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری زمین پر ہماری مصنوعات استعمال ہوں گی۔ انہوں نے فلسطینی شہریوں پر زور دیا کہ وہ زراعت پرزیادہ توجہ دیں تاکہ فلسطین کو زراعت کےمیدان میں خود کفیل بنایا یا اسکے اور صہیونی ریاست پر انحصار ختم کیا جاسکے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
