فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں حکمراں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ
صہیونی ریاست کی بے ثمر فتووحات کا دور گذر چکا۔ان کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ نے تحریک آزادی فلسطین کو ایک نئے موڑ میں داخل کر دیا ہے۔ مزاحمت کی تیاری کے مرحلے سے نکل کراب دفاع اور آزادی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس جنگ میں پوری مسلم امہ نے اہالیان غزہ کا ساتھ دیا ہے، ہماری جنگ اپنی منزل مقصود تک جاری رہے گی۔ آزادی کی خاطر حماس اور فلسطینی حکومت اپنی حکمت عملی تبدیل نہیں کرے گی، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ مسلح جدو جہد کے بغیر وطن کو آزاد نہیں کرایا جا سکتا ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے غزہ کی پٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو مبصر کا درجہ ملنا فلسطینی عوام کی مزاحمت اور مسلح جدو جہد کا ثمر ہے۔ فلسطینی عوام اپنے بنیادی اصولوں اور قومی دفاعی حکمت عملی کو کسی صورت میں ترک نہیں کریں گے۔ اقوام متحدہ سمیت کسی بھی عالمی فورمز پر فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سفارتی میدان میں ہونے والی کوششوں کی حمایت کریں گے لیکن بنیادی حقوق سے دستبرداری اور قومی حقوق کے معاملے میں کسی قسم کے افراط وتفریط کو قبول نہیں کیا جائے گا۔فلسطینی وزیراعظم نے غزہ جنگ کے بعد مسلم ممالک کی جانب سے اہالیان غزہ کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور وفود کی آمد کی تعریف کی اور کہا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ مسلم امہ اب فلسطینیوں کے حوالے سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ یہی صہیونی دشمن اور غاصب کے زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
