فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام سیکیورٹی فورسزکے سینیئر اہلکاروں کا ایک نیا شرمناک اسکینڈل منظرعام پرآیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اندر سے لیک ہونے والی ایک خبرکے مطابق رام اللہ ملٹری پولیس کے ایک کیپٹن کے دفتر میں لیڈیز بیت الخلاؤں میں خفیہ کیمرے نصب ہیں، جن کی مدد سے خواتین کی نگرانی کی جاتی ہے اور ان کی واش روم میں ویڈیو بنائے جانے کا شرمناک مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے ایک سرکردہ ذریعے نے "مرکزاطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ دو روز پیشتر ملٹری انٹیلی جنس کے دفترمیں ایک خاتون اہلکارٹوائلٹ میں گئی تو اس نے ٹوائلٹ کی چھت پر ایک چھوٹا کیمرہ نما آلہ دیکھا۔ اس نے اس مشکوک چیزکو چیک کرنے کی کوشش کی تو وہ نیچے گر پڑا۔ اٹھا کردیکھاتو وہ خفیہ نگرانی کے لیے استعمال ہونے والاایک وائر کیمرہ تھا جو وہاں پر نصب کیاگیا تھا۔خاتون اہلکارنے نہایت غم وغصے کی حالت میں دوسرے اہلکاروں کو بھی اس سارے واقعے کے بارے میں بتایا، جس اسے اس کے دفتر میں بند کردیا گیا اور سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ اس راز کو لیک نہ کرے اور نہ ہی معاملہ اعلٰی حکام تک پہنچائے۔
رام اللہ سے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق بعد ازاں جب اس واقعے کی خبر پھیل گئی توحکام نے مذکورہ کیپٹن کے دفتر سے تمام کیمرے، نگرانی کے آلات اور اس کے استعمال میں تمام کمپیوٹر قبضے میں لے لیے ہیں۔ اگلی کارروائی کا علم نہیں ہوسکا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
