• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کا استحصال ٹائم بم کی طرح خطرناک ہے:یو این

بدھ 17-06-2015
in فلسطین
0
plf time-bomb
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے سرگرم اقوام متحدہ کے امدادی ادارے”اونروا” کے کمشنر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ شام، لبنان، غزہ کی پٹی، غرب اردن، اور اردن سمیت دنیا کے دوسرے ملکوں میں موجود فلسطینی مہاجرین کے حقوق کا استحصال ٹائم بم کی طرح خطرناک ہے۔ اگر مزید کئی سال تک فلسطینیوں کو واپسی کاحق نہ دیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اوردنیا کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "اونروا” کے کمشنر جنرل پییر کرین پول نے اردن میں فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کے لیے منعقدہ ایک ڈونرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کا استحصال نہایت خطرناک ہے اور یہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ٹائم بم کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت اردن سمیت دوسرے پڑوسی ملکوں میں مختلف مہاجر کیمپوں میں  50 لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزین بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کا معاملہ حل طلب ہے اور اس میں مزید کسی تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں رہی ہے۔ عالمی برادری اور عرب ممالک کو اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرناہوں گی ورنہ پناہ گزینوں کو درپیش مشکلات مزید سنگین شکل اختیار کرسکتی ہیں۔

یو این عہدیدار کا کہنا تھا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی تیسری نسل اس وقت در بہ در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔ یہ لوگ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں اور بھیڑ بکریوں کی طرح دوسرے ملکوں میں ہانکے جاتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی دوسرے ملک میں کوئی بحران کھڑا ہوتا ہے تو فلسطینی پناہ گزین اس کا پہلا شکار ہوتے ہیں جنگجوں، ناکہ بندیوں اور دیگر بحرانوں کی وجہ پناہ گزین فاقہ کشی پرمجبور ہیں۔ فلسطین کے اندر کی صورت حال سے زیادہ ابتر ہے جہاں اسرائیل کے پناہ گزینوں تک امدادی اداروں کی رسائی بھی مشکل بنا رکھی ہے۔

"اونروا” کے سربراہ نے ڈونرز ممالک کے سامنے ادارے کو درپیش مالیاتی بحران کی تفصیل بھی رکھی اور کہا کہ امدادی ادارہ بھی پناہ گزینوں کی خاطر خواہ مدد کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امداد کی فراہمی تعطل کا شکار ہونے سے ادارے کو کئی فلاحی پروجیکٹ بند کرنا پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال صرف اونروا کے زیرانتظام چلنے والے اسکولوں کے لیے 101 ملین ڈالر کی رقم درکار ہے اور ادارے کے پاس صرف ستمبر تک تنخواہیں دینے کے لیے فنڈز باقی بچے ہیں۔ تین ماہ کے اندر اندر عالمی برادری کی جانب سے امداد کا بندو بست نہ کیا گیا تو ادارہ مزید مشکلات کا شکار ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کی وجہ سے فلسطینی مہاجرین کی بہبود کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے اور رواں سال میں اب تک صرف 27 فی صد امداد وصول ہوسکی ہے۔ لبنان میں مقیم فلسطینی پناہ گزینوں کو رہائش کے لیے وظیفہ نہیں مل رہا ہے، اس طرح غزہ کی پٹی میں "اونروا” کے زیرانتظام اسکولوں، اسپتالوں اور گھروں کی تعمیر کے لیے عالمی برادری سے 720 ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کی گئی تھی جس میں سے صرف 216 ملین ڈالر کی رقم ملی ہے اور باقی ابھی تک فقط وعدوں اور زبانی دعووں تک محدود ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.