فلسطینی اسیران کے تحفظ کے یورپی نیٹ ورک ’UFree‘نے فلسطینی مجلس قانون ساز کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک اور ایک دیگر رکن پارلیمان کی اسرائیل کے ہاتھوں گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے
اسے فلسطینی قوم کے خلاف اسرائیل کی انتہائی خوفناک جارحیت قرار دیا ہے۔ یورپی نیٹ ورک کے مطابق اسرائیلی حالیہ کارروائیاں فلسطینی داخلی مفاہمت کو ناکام کرنے کی کوشش ہے۔
یورپی نیٹ ورک نے ہفتے کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ تل ابیب کی جانب سے فلسطینی اسمبلی کے اسپیکر کی گرفتاری کے اقدامات ایک بڑی غلطی ہے۔ اسرائیل کی اس خوفناک کارروائی کی صرف زبانی مذمت کافی نہ ہوگی بلکہ اس کوفلسطینی اراکین پارلیمان کی گرفتاریوں سے باز رکھنے کے لیے عملی اقدامات انتہائی نا گزیر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے ڈاکٹر عزیز دویک کو ایسے وقت میں دوسری مرتبہ گرفتار کیا جب پہلی مرتبہ وہ ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہ کر سکا تھا۔
یورپی نیٹ ورک نے کہا کہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور یورپی پارلیمانوں کی جانب اسرائیلی جارحیت کا صرف زبانی رد کافی نہیں بلکہ انہیں اسرائیل کو فلسطینی اراکین کو رہا کرنے پر مجبور کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہونگے۔ اسرائیل کی جانب سے ڈاکٹر عزیز دویک کی پہلی گرفتاری کے دوران کوئی الزام ثابت نہ کیا جاسکا تھا۔
پورپی نیٹ ورک ’UFree‘ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ اقدامات نے تمام عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدات کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ اراکین پارلیمان کو گرفتار کر کے انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر اسرائیل انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔
ناروے میں صدر مقام رکھنے والے یورپی نیٹ ورک کا کہنا تھا کہ مجلس قانون ساز کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک اور بیت لحم کے رکن پارلیمان خالدطافش کی گرفتاری کے بعد اسرائیلی عقوبت خانوں میں فلسطینی اراکین پارلیمان کی تعداد پچیس ہو گئی ہے۔ یہ سب ان افراد کو سیاسی سرگرمیوں سے روکنے اور صہیونی خفیہ ایجنسیوں کے ایما پر کیا جا رہا ہے۔

