اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک فلسطینی بچے کے جنازے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے تین فلسطینی زخمی ہو گئے۔ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری مخالف قومی کمیٹی کے ترجمان نے بتایا کہ
صہیونی اہلکاروں نے منگل کی صبح تیرہ سالہ محمد سمیح صبارنہ لڑکے کے جنازے پر اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ صبارنہ کسی لاعلاج مرض میں مبتلا ہو کر جاں بحق ہوا تھا۔
آبادکاری مخالف قومی کمیٹی کے مطابق الخلیل شہر کے بیت امر ٹاؤن کے داخلی راستے پر پہلے سے ہی اسرائیلی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجو د تھی جونہی جنازہ وہاں پہنچا تو شرکاء میں سخت اشتعال پھیل گیا، اسرائیلی فوج کی جانب سے بلاجواز روک ٹوک کے باعث جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے جنازے کے شرکاء پر فائر کھول دیا اور فائرنگ شروع کر دی۔ صہیونی فوجی جنازے کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لئے ساؤنڈ بم، اشک آور گیس اور ربڑ کی گولیوں فائر کیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض فوجی مطاہرین پر اصلی گولیاں بھی برساتے رہے۔
علاقے میں آنسو پھیلنے سے نوعمر لڑکے جنازے کے شرکاء سخت تکلیف میں مبتلا رہے۔ اس دوران صہیونی فوج کی فائرنگ سے تین فلسطینی زخمی ہو گئے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
