مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ’’شاباک‘‘ کی اس تازہ مہم میں سنہ 1948 ء کے مقبوضہ فلسطینی شہروں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو ’فوکس‘ کیا گیا ہے۔ انہیں معمول کے ای میل پیغامات اور موبائل فون پرٹیکسٹ میسیج کے ذریعے شاباک کی صفوں میں شامل ہونے کی پیش کش کی جاتی ہے۔
مقامی میڈیا نے ایسے کئی فلسطینیوں کا حوالہ دیا ہے تاہم ان کے نام ظاہر نہیں کیےگئے۔ ان فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں موبائل فون پر پیغامات کے علاوی ای میل کے ذریعے بھی ’’شاباک‘‘ کے ٹریپ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے خفیہ ادارے کے لیے کام کرنے کی پاداش میں بھاری معاوضوں کی بھی پیش کش کی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق فلسطینی نوجوانوں سے کہا گیاہے کہ وہ مزاحمت کاروں اور اسرائیل کے بارے میں منفی سوچ رکھنے والے فلسطینیوں کی نشاندہی کریں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے خفیہ ادارے کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی یہ پہلی کوشش نہیں بلکہ اس سے قبل غزہ کی پٹی، بیت المقدس اور مغربی کنارے کے نوجوانوں کے سامنے بھی اس طرح کی پیشکشیں کی جاتی رہی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
