مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں نشے میں دھت فلسطینی لڑکوں اور صہیونیوں کے مشترکہ ڈانس پرفلسطینی عوام میں سخت اشتعال پایا جا رہا ہے۔عوامی حلقوں نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ شرمناک اور اخلاقیات سے گری حرکت کے مرتکب عناصرکو حراست میں لے ان کے خلاف سخت قانونی
کارروائی عمل میں لائی جائے، کیونکہ انہوں نے فلسطینی قوم کی تذلیل کی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کے ایک عبرانی ٹی وی ٰچینل نے ایک ویڈیو فوٹیج نشر کی ہے جس میں مبینہ طور پر فلسطینی لڑکوں اور یہودیوں کو ایک ہوٹل میں شراب پینے کے بعد ڈانس کرتے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں صہیونیوں کے ساتھ مل کر شراب نوشی کرنے والوں کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔
مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی گھٹیا حرکات فلسطینی قوم کا خاصہ نہیں ہیں۔ قوم ایسی حیاباختہ حرکات کی کسی صورت میں اجازت نہیں دے سکتی ہے۔ فلسطینیوں کی پہچان ایک مجاھد قوم کی ہے، جس کا ماضی شراب نوشی اور ڈانس نہیں بلکہ شہداء کی قربانیوں اور غاصب دشمن کے خلاف جدو جہد آزادی سےعبارت ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سماجی رابطے کی ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ "یوٹیوب” پرتیزی سے پھیلنے والی اس فوٹیج پر فلسطینی شہریوں کی جانب سے تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ البیرہ کے کسی ہوٹل میں اگر یہ واقعہ پیش آیا ہے تو ہم یقین نہیں کرسکتے کہ اس میں فلسطینی بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔
ادھر اسرائیل کے عبرانی ریڈیونے بھی اپنی ایک رپورٹ میں اس شرمناک ویڈیو فوٹیج کی کوریج کی ہے۔ ریڈیو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ رام اللہ میں البیرہ کے مقام پرایک ہوٹل میں چند ہی روز قبل پیش آیا تھا۔ اس تقریب میں یہودی رقصائیں اور فلسطینی لڑکے بانہوں میں بانہیں ڈال کر رقص کا شرمناک مظاہرہ کر رہے ہیں۔
یوٹیوب پر اس فوٹیج کو دیکھنے والے ایک شہری علاء محمود نے کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ صہیونیوں کے ساتھ رقص وسرود کی اس محفل میں شریک افراد فلسطینی نہیں ہوسکتے ہیں مجھے یہ یقین نہیں آرہا کہ فلسطینی بھی ایسی گھناؤنی حرکت کرسکتے ہیں”۔ کئی دوسرے شہریوں نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونیوں کے ساتھ شراب نوشی اور رقص کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے کیونکہ انہوں نےپوری قوم کی عزت پامال کی ہے۔
رام اللہ۔۔۔ مرکزاطلاعات فلسطین
