فلسطین کے مختلف شہروں بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس میں انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے مسلمانوں کی املاک اور عیسائی برادری کے مقدس مقامات پر شرمناک حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق انتہا پسند یہودیوں نے بیت المقدس میں عیسائیوں کے ایک قبرستان کی ایک مرتبہ پھر بے حرمتی کا شرمناک مظاہرہ کیا ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید اشتعال پایا جا رہا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصٰی کے جنوبی کالونی”سلوان” میں ان انتہا پسند یہودیوں نے راہ چلتے فلسطینیوں کی گاڑیوں پر حملے کیے اور ان کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ بعد ازاں قدیم شہر میں مسیحی برادری کے لاتیننیہ قبرستان کی بے حرمتی کی گئی اور وہاں پر موجود دو فلسطینی لڑکوں کو وحشیانہ تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔
تشدد کا نشانہ بننے والے ایک پندرہ سالہ روحی حسین دعنا نے بتایا کہ میں اور میرا دوست تیسیر ابو مالیہ کو یہودیوں کے ایک گروپ نے مارا پیٹا۔ یہودی گروپ میں کوئی سات غنڈہ گرد موجود تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں فلسطین اور بیت المقدس کے نقشے اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینیی علاقوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ یہودی آباد کار وہ نقشے راہ چلتے فلسطینیوں کو دکھاتے اور ساتھ ہی انہیں اشتعال دلاتے۔
خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں آباد کیے گئے یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر حملے روز کامعمول ہیں۔ گذشتہ ہفتے غاصب یہودیوں نے شہر میں مسیحی برادری کے ایک قدیم قبرستان کی بے حرمتی کرتے ہوئے کئی قبروں کے نشانات مٹا دیے تھے۔ یہودیوں کی اس مذہبی غنڈہ گردی کے خلاف مسیحی برادری کی جانب سے سخت احتجاج کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
