اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مختلف شہروں میں رہنے والے فلسطینیوں کو بیرون ملک علاج اور دیگرکسی بھی نوعیت کے سفرکے لیے قابض اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے بلیک میلنگ اور ناروا سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔
اسرائیلی فوجی فلسطین کی دوسرے ملکوں کی سرحدوں پرواقع گذرگاہوں اور فلسطین کے اندر بنی راہداریوں پر تعینات ہوتے ہیں جو ہر گذرنے والے فلسطینیوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینیوں کی بلیک میلنگ کی سب سے زیادہ کارروائیاں بیت حانون راہداری پر ریکارڈ کی گئی ہیں جہاں غزہ کے شہری مقبوضہ مغربی کنارے اور وہاں سے اردن کی جانب جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بیت حانون راہداری سے گذرتے ہوئے اسرائیلی فوجی نہ صرف فلسطینیوں کے سامان کو ضبط کرلیتے ہیں بلکہ کئی مسافروں کو بغیر کسی جرم کے حراست میں لے کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ان مسافرون میں زیادہ تر مریض شہری ہوتے ہیں جو علاج معالجے کے لیے مغربی کنارےکے اسپتالوں میں جاتے ہیں۔ بین الاضلاع صہیونی فوج کے بنائی گئی چیک پوسٹوں پر تعینات فلسطینی شہریوں کو بلیک میل کرتے اور انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے فلسطینی مزاحمت کاروں سے تعلق معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوران تفتیش فلسطینیوں کو یہ پیشکش کی جاتی ہے کہ غزہ کی پٹی کے فلسطینی مزاحمت کاروں کے بارے میں بتائیں۔ اس دوران ان کے سامنے ایک فہرست بھی رکھی جاتی ہے، اس فہرست میں ان لوگوں کے نام شامل ہوتے ہیں جو اسرائیل کو مطلوب قرار دیے گئے ہوتے ہیں۔ فلسطینی مسافروں سے ان کے نام اور پتے معلوم کرکے انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔ فلسطینیوں کی جانب سے کسی قسم کا تعاون نہ ملنے کی صورت میں یہودی فوجی انہیں وہیں پر یا تو گرفتار کرلیتے ہین یا انہیں وہاں سے آگے جانے سے روک دیا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران صہیونی فوجیوں نے بیت حانون گٓذرگاہ پر فلسطینی مسافروں کے ساتھ معاندانہ سلوک جاری رکھا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے تعاون نہ کرنے والے فلسطینیوں کی اڑتیس درخواستیں مسترد کردیں۔ فلسطینیوں نے مغربی کنارے میں علاج کے لیے جانے کےلیے درخواستیں دی تھی۔ مسترد کی جانے والی درخواستوں میں چودہ خواتین کی درخواستیں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 199مریضوں کی درخواستیں التواء میں ڈال گی گئیں میں نواسی خواتین کی درخواستیں بھی شامل تھیں۔ رواں سال کے دوران صہیونی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے صرف اکانوے مریضوں کو مغربی کنارے میں داخلے کی اجازت دی گئی، ان میں ترپن مرد اور اڑتیس خواتین شامل ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
