فلسطین کے ایک مزاحمتی لیڈر اور سابق اسیر رہ نما نے مزاحمتی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل اپنے پیاروں کو رہائی دلوانے کے لیے اسرائیل کے مزید فوجیوں کو پکڑیں۔
ان کا کہنا ہے اسرائیل صرف طاقت کے زبان جانتا ہے اور فلسطینی مزاحمت کاروں کو طاقت کے تمام حربے استعمال کرنے کا حق ملنا چاہیے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے رہ نما اور سابق اسیر روحی مشتہی نے غزہ کی پٹی میں نصرت مسجد اقصیٰ کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینارسے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینی صہیونی جنگی مجرموں کے ہاتھوں سنگین ترین عذاب اور ایذائیں برداشت کررہے ہیں۔ انہیں اس ذلت کے ان گڑھوں سے نکالنا نہ صرف تمام فلسطینیوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے بلکہ یہ مسلم امہ کا بھی فرض ہے۔ اسرائیل فلسطینی محروسین پربدترین تشدد اس لیے کرتا ہے تاکہ انہیں اپنے حقوق سے دستبردار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
فلسطینی مجاہد لیڈر نے اندرون فلسطین اور بیرون ملک مزاحمتی قیادت پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کی گرفتاری کی سبیل نکالیں تاکہ ان کے بدلے میں مزید فلسطینی محروسین کو صہیونیوں کے عذاب سے نجات دلائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اسیران اگرہماری قوم کے ہیرو ہیں تو ہیرو کو جیل میں نہیں بلکہ میدان میں ہونا چاہیے۔
روحی مشتہی کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایک قیدیوں کےتبادلے کے سمجھوتے کے تحت رہا ہوئے ہیں۔ وہ آزادی کے لیے اسرائیلی جیلوں میں بار بار جانے کے لیے تیار ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

