مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس نے گذشتہ روز بیت المقدس سے فلسطینی لڑکے کے اغواء اور اس کی شہادت کو صہیونی ریاست کے مکروہ چہرے کا مظہر قرار دیتے ہوئے اسے وحشیانہ جرم سے تعبیر کیا ہے۔ حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں واقعے کی پرزور الفاظ میں مذمت کے ساتھ ساتھ صہیونی ریاست کی ریاستی دہشت گردی کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ ایک نہتے فلسطینی لڑکے کو اغواء کے بعد جان سے مار دینے کے واقعے نے صہیونی خون خوار بھیڑیوں کی عالمی سطح پر دروغ گوئی اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اسرائیلی ریاست تین یہودی لڑکوں کے اغواء کے بعد نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل کے بعد وحشت اور بربریت پر اترآئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی باشندوں کے خلاف طاقت کے استعمال اور فلسطینی مقدس مقامات کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری رکھا ہے جس پر فلسطینیوں میں سخت غم وغصہ کی فضاء پائی جا رہی ہے۔
حماس نے استفسار کیا کہ گذشتہ روز فلسطینی بچے محمد ابو خضیر کو اغواء کرنے والے یہودی آباد کاروں کے خلاف اسرائیل کارروائی کیوں نہیں کرتا۔ اس لیے کہ اسرائیلی حکومت خود دہشت گردی کی پشت پناہی کررہی ہے اور نیتن یاھو کی حکم کے تحت ہی ابو خضیر کو شہید کیا گیا ہے۔
بیان میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد قتل کے حوالے سے اپنائے گئے موقف کی مذمت کی ہے اور رام اللہ حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صہیونی دشمن کے ساتھ فوجی تعاون فوری طور پر ختم کر دیں۔
