اسیران امور و انسانی حقوق کے مرکز احرار نے خبردار کیا ہےکہ نابلس سے تعلق رکھنے والے فلسطینی اسیر داود رواجبہ جو ان دنوں مجدو جیل میں ہیں کی صحت شدید خراب ہو چکی ہے۔
36 سالہ رواجبہ چھ ماہ کی انتظامی حراست میں ہیں۔ مرکز احرار کے ڈائریکٹر فواد خفش کا کہنا ہے کو رواجبہ کو علاج کے لیے اردن جاتے ہوئے 21 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اپنی گرفتاری کے وقت سے لیکر اب تک رواجبہ کسی بھی طبی سہولت سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا کی صحت انتہائی نازک ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل نوے کی دہائی میں بھی اسرائیل نے انہیں ان کے شدید بیمار ہونے کے سبب رہا کردیا تھا۔ تاہم جب کبھی انہوں نے علاج کی کوشش کی انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
خفش نے مزید بتایا کہ رواجہ کو متعدد بار انتظامی حراستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سنہ 1992ء میں انہیں تین ماہ تک قید رکھا گیا، سنہ 1994ء میں انہیں دوسری مرتبہ گرفتار کیا گیا اس مرتبہ ان کو انتہائی بھیانک تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔
1997ء میں تیسری مرتبہ گرفتار کرکے اپنی بیماریوں کا علاج مکمل نہ نہ کرنے دیا گیا۔ اسی حراست میں شدید حالت خراب ہونے کے بعد وہ رہا تو کیے گئے مگر کچھ عرصہ بعد 1998ء میں چوتھی مرتبہ پس زنداں دھکیل دیے گئے، اس مرتبہ انہیں ستر دن کی انسانیت سوز تفتیش کے بعد دو سال قید کی سزا دی گئی مگر ان کی صحت شدید خراب ہوجانے کے باعث پانچ ماہ بعد ہی رہا کردیا گیا۔
2002 میں پانچویں مرتبہ گرفتاری کے بعد 80 روز تک تفتیشی مراحل کے بعد انتظامی حراست میں منتقل کردیے گئے اور تین سال تک گرفتار رہے۔ 2005ء میں رہائی پائی تو 2006ء میں چھٹی مرتبہ ایک ماہ کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیے گئے۔
اب اپنی ساتویں گرفتاری کے دوران ان کی صحت ایک بار پھر شدید خراب ہے، درد کی شدت سے وہ سونے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔ مرکز احرار نے اس موقع پر انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کرکے رواجبہ کو رہا کروانے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
