فلسطینی صدر محمود عباس نے قومی شناختی کارڈ سے مذہب کا خانہ ختم کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے بعد فلسطین کے سیاسی اورمذہبی حلقوں میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں صدر محمود عباس نے اپنے ایک خصوصی فرمان میں حکم دیا تھا کہ فلسطین کے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے قومی شناختی کارڈ سے مذہب کا حوالہ ختم کردیا جائے۔ ان کے اس فیصلے کے رد عمل میں اسلامی تحریک مزاحمت[حماس] کے مرکزی رہ نما حسنی البورینی کا کہنا ہے کہ محمود عباس قومی شناختی کارڈ سے مذہب کا حوالہ ختم کرکے قوم میں سیکولرزم اورلادینیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین مسلمانوں کا ملک ہے اور قومی شناختی کارڈ پر اسلام کا تذکرہ لازمی قرار دیا جانا چاہیے لیکن صدر محمود عباس اپنے مغربی بہی خواہوں خوش کرنے کے لیے اسلام کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے علامہ البورینی نے کہا کہ انہیں صدر عباس کا فیصلہ کسی قیمت پرقبول نہیں، کیونکہ وہ قوم کو گمراہ کرنا اورانہیں دین سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ فلسطینی عوام اپنے فلسفے اور مذہب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ دین سے دوری ہماری سب سے بڑی شکست ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر عباس نے محض قومی شناختی کارڈ سے مذہب کا خانہ ختم کرنے کی بات نہیں کی بلکہ انہوں نے مستقبل میں اپنے سیاسی منشور کا بھی عندیہ دیتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ملک میں سیکولر نظام حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
